خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 139 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 139

خطبات ناصر جلد دہم ۱۳۹ خطبہ عیدالاضحیہ ۲۷ فروری ۱۹۶۹ء پیدا کرنے والا ہے یا خون کرنے والا ہے؟ چنانچہ فرشتے سے کہا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے پاس جاؤ اور آپ سے کہو کہ طائف والوں نے آپ کو بہت دکھ دیا۔جب آپ شہر کو چھوڑ کے جارہے تھے اس وقت بھی آپ کو نہیں چھوڑا اور نا سمجھ اور او باش قسم کے لوگوں کو پیچھے لگا دیا جنہوں نے تین میل تک آپ کو گندی گالیاں دیں، پتھراؤ کیا۔سارا جسم خون خون ہو گیا۔خدا فرماتا ہے کہ اگر آپ چاہیں تو طائف کے گرد جو پہاڑیاں ہیں ان کو ان کے اوپر پھینک دیا جائے اور ساری آبادی کو تباہ کر دیا جائے۔تب مقصد حیات (صلی اللہ علیہ وسلم ) نے جواب دیا کہ یہ پہاڑیاں ان پر نہیں گرائی جائیں گی اور یہ لوگ تباہ نہیں کئے جائیں گے کیونکہ مجھے امید ہے کہ ان میں سے ہی وہ لوگ بھی پیدا ہوں گے جو اپنے رب کی شناخت کر نے لگیں گے اور خدائے واحد و یگانہ کی پرستش کرنے لگیں گے۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرشتوں کو بھی سبق سکھایا اور ہمیں بھی سبق سکھایا اور ہمارے لئے نمونہ بنے۔دو طرح کا نمونہ ایک یہ کہ اگر ہمیں اللہ کی راہ میں قربانیاں دینا پڑیں اور مصائب برداشت کرنے پڑیں تو جس طرح میں نے برداشت کئے ہیں اسی طرح اگر تم میرے ساتھ محبت رکھتے ہو نو تم بھی خدا کی راہ میں تکالیف اور مصائب برداشت کرنا اور دوسرے اس رنگ میں نمونہ کہ ہر نسل اگلی نسل کی تربیت اس رنگ میں کرے کہ وہ اسوہ نبوی کی پیروی کرنے والی ہو اور خدا کی رضا کی جستجو میں دنیا کی ذلتوں اور دنیا کی حقارتوں اور دنیا کی ایذا رسانیوں اور دنیا کے پتھراؤ کی کوئی پرواہ نہ کرے۔یہ اسوہ اور نمونہ ہے جو دنیا کے سامنے محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش کیا اور اپنے اور بیگانے اس پر حیران بھی ہوئے اور اس کی تعریف بھی کی لیکن دنیا ان بے وقوفوں اور او باشوں کی سنت کی تو اتباع کرنے کے لئے بڑی جلدی تیار ہو جاتی ہے جنہوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیں اور آپ پر پتھراؤ کئے لیکن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ کی پیروی کی طرف متوجہ نہیں ہوتی۔اللہ تعالیٰ ان کی آنکھیں کھولے اور قربانی کی حقیقی روح کو وہ سمجھنے لگیں اور خدا تعالیٰ سب دنیا کو تمام انسانوں کو یہ توفیق عطا کرے کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نمونہ پر چل کر خدا تعالیٰ