خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 138
خطبات ناصر جلد دہم ۱۳۸ خطبہ عیدالاضحیہ ۲۷ فروری ۱۹۶۹ء کا نمونہ دکھایا۔خدا تعالیٰ نے ایسے حالات پیدا کر دیئے کہ ان کفار میں سے ہی جنہوں نے محاصرہ اور بائیکاٹ کیا تھا کچھ لوگ اس کے خلاف ہو گئے۔اللہ تعالیٰ نے ایک معجزہ دکھایا۔ان کے دل اس معاملہ میں نرم کر دیئے اور محاصرہ اٹھ گیا۔پھر جب کچھ آزادی ملی تو ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خیال پیدا ہوا کہ مکہ والوں کو میں نے پیغام حق سنایا ہے۔کچھ نے قبول کیا ہے۔باقیوں نے قبول نہیں کیا۔بہر حال ساری دنیا کے لئے جو مذہب ہے اس کی اشاعت اب مکہ سے باہر بھی کرنی چاہیے۔آپ طائف چلے گئے اور قریباً دس دن وہاں ٹھہرے لیکن ان سخت دل بدقسمت لوگوں پر بھی کوئی اثر نہیں ہوا بعض نے خاموشی اختیار کی لیکن بعض نے بڑا سخت رویہ اختیار کیا اور جب ان لوگوں سے وقتی طور پر مایوس ہو کر کہ اب یہ میری بات نہیں سنتے آپ واپس ہوئے تو انہوں نے طائف کے بچوں اور او باش قسم کے لوگوں کو کہا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پیچھے جاؤ اور تنگ کرو۔چنانچہ تین میل تک جس کا مطلب یہ ہے کہ ۴۵ منٹ سے ایک گھنٹہ۔کیونکہ راستہ کا تو مجھے علم نہیں۔اگر راستہ مشکل ہو تو وقت زیادہ لگتا ہے سہل ہو تو جلدی طے ہو جاتا ہے۔بہر حال ۴۰۔۵۰۔۶۰ منٹ میں طے ہوا ہوگا۔تین میل تک یہ لوگ آپ کو گالیاں دیتے اور آپ پر پتھر برساتے پیچھے پیچھے ہو لئے اور آپ کا یہ حال تھا کہ پتھروں کے لگنے سے جو خون بہہ رہا تھا اس سے سارا جسم خون آلود ہو گیا تھا اور جب یہ ہو چکا اور اللہ کے نبی آنے اور اس کے محبوب نے خدا کی راہ میں قربانی کا ایک بے نظیر نمونہ پیش کر دیا تو اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے بھی کہا کہ پاک بندہ (صلی اللہ علیہ وسلم ) میں پیدا کرنا چاہتا تھا جس کی وجہ سے میں نے انسان کو پیدا کیا اس وقت تم نے یہ کہا تھا کہ اے خدا! تو اس دنیا میں فسادی اور خون بہانے والے پیدا کرنا چاہتا ہے یعنی ایک ایسا سلسلہ ہوگا جس میں فساد بھی ہوگا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا جو میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے تو خدا تعالیٰ نے فرشتوں کو کہا کہ میں نے تمہیں کہا تھا کہ جو میرے علم میں ہے تمہارے علم میں نہیں۔آؤ آج تمہیں دکھاؤں کہ میرے علم میں کیا تھا؟ تم سمجھتے تھے کہ فساد کرنے والے اور خون کرنے والے انسان اس دنیا پر پیدا کئے جار ہے ہیں لیکن جس انسان کو میں پیدا کرنا چاہتا تھا اس کو آج جا کے آزما لو اور دیکھو! کیا وہ فساد