خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 137
خطبات ناصر جلد دہم ۱۳۷ خطبہ عیدالاضحیہ ۲۷ فروری ۱۹۶۹ء پھر جب مشرکین مکہ کو اس میں کامیابی نظر نہ آئی تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ اب ان کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے نہ ان سے کوئی رشتہ کرے، نہ کلام کرے، نہ کوئی تعلق رکھے، نہ ان کو کھانے پینے کے لئے کچھ دیا جائے۔جہاں تک حضرت اسمعیل علیہ السلام کو بے آب و گیاہ صحرا میں آباد کرنے کا تعلق تھا ہو سکتا تھا کہ اللہ کے فضل سے کوئی قافلہ آجاتا اور غذا دے دیتا ان کے کھانے پینے کا انتظام تو نہیں تھا کیونکہ چند دن کی خوراک تھی لیکن پانی اور کھانے کے راستے بند نہیں تھے۔یہی راستے تھے جو کھلے۔ایک زمین کا راستہ تھا اور ایک آسمان کا راستہ تھا۔یعنی فرشتوں نے قافلوں سے کہا کہ وہاں جاؤ۔صحرا میں پانی پیدا کر دیا کہ ان کے لئے جذب کا موجب بن جائے۔لیکن یہاں نہ صرف یہ کہ کھانے پینے کا سامان نہیں تھا بلکہ دروازوں پر پہرے تھے اور اتنا سخت محاصرہ تھا اور اتنی سخت تنگی تھی صحابہ کو اور ان کے ساتھ ان کے ایسے رشتہ داروں کو جو آپ کا ساتھ دیتے تھے اگر چہ ایمان نہیں لائے تھے کہ ایک صحابی کہتے ہیں کہ بھوک کی وجہ سے ہمارا یہ حال ہوتا تھا کہ ایک دفعہ ایک چیز پر میرا پاؤں پڑا اور میں نے محسوس کیا کہ یہ نرم سی چیز ہے۔رات کا وقت تھا۔اندھیرے میں میں نے اسے اٹھایا اور کھا گیا۔جب بتاتے تھے تو کہتے تھے کہ مجھے آج تک پتا نہیں کہ وہ تھی کیا چیز۔ایک اور بڑے بزرگ صحابی روایت کرتے ہیں کہ ایک دفعہ اتفاقاً وہاں ایک سوکھا ہوا پرانا چھڑ مل گیا میں اس کو لے گیا اور اچھی طرح صاف کیا ، دھویا، اُبالا اور نرم کر کے کئی دن تک یہ میری ضیافت تھی۔میں اس پر گزارہ کرتا رہا۔اس قسم کی شدید بھوک اور پیاس کی تکلیف میں سے وہ گذررہے تھے اور صرف پانچ یا سات دن کے لئے نہیں بلکہ قریباً ڈھائی تین سال یہ محاصرہ رہا اور اس قسم کی تنگی رہی اور ہمارے محبوب محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی عجب شان ہے اور آپ کی قوت قدسیہ کا عجیب اثر ہے کہ اتنا لمبا عرصہ تکالیف برداشت کرنے کے باوجود ایک شخص نے بھی ارتداد اختیار نہیں کیا بلکہ وہ سب کے سب مضبوطی کے ساتھ اپنے مذہب پر اپنے دین پر قائم رہے۔پھر خدا تعالیٰ نے اس آزمائش کے بعد جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دنیا کے لئے ایک نمونہ بنے اور تربیت میں بھی ایک نمونہ بنے۔اور آپ کے صحابہ نے دنیا کو نہایت شاندار قربانیوں