خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 136
خطبات ناصر جلد دہم ۱۳۶ خطبہ عیدالاضحیہ ۲۷ فروری ۱۹۶۹ء پائیں تو شروع میں آپ نے اللہ تعالیٰ کی منشا کے مطابق خفیہ تبلیغ کی تبلیغ کا اعلان نہیں کیا بلکہ جو دوست تھے، واقف تھے ، رشتہ دار تھے۔جن کے ساتھ تعلق تھا انہیں سمجھانا شروع کیا کہ بتوں کی پرستش چھوڑ دینی چاہیے اور اللہ تعالیٰ جو واحد و یگانہ ہے اس کی پرستش کرنی چاہیے اور یہ عرصہ تھوڑا نہیں بلکہ تین سال کا لمبا عرصہ ہے جس کا مطلب یہ ہے کی زندگی کا قریباً ۱۸۔۲۰ فیصد زمانہ ہے جس میں یہ خفیہ تبلیغ رہی ہے اور اس عرصہ میں چند ایک مسلمان ہو گئے جو انگلیوں پر گنے جاسکتے ہیں۔میں آپ کو اس چیز کی طرف توجہ نہیں دلا رہا کہ وہ خفیہ تبلیغ کا زمانہ تھا بلکہ میں اس چیز کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ اس قسم کے ظالم لوگ تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خدا داد نور فراست سے اس نتیجہ پر پہنچے کہ اگر آج اعلانیہ اور کھل کے تبلیغ کی گئی تو یہ لوگ پوری کوشش کریں گے کہ اسلام کو مٹا دیں اور اس وقت تک چونکہ چند ہی ساتھی تھے اور ان کی تربیت بھی آپ کے پروں کے نیچے ایک وقت کے بعد مکمل ہوئی تھی ان کی زندگیاں خطرے میں پڑ جائیں اور جو اصل مقصد اسلام کی ترقی اور ساری دنیا میں پھیلانے کا ہے اسے بہت زبر دست خطرہ پیش آئے گا۔یہ خطرہ کامل اور حقیقی تربیت سے قبل مول نہیں لینا چاہیے آپ نے اللہ تعالیٰ کی اجازت سے ایسا کیا۔پس اس قسم کے ظالم لوگ تھے وہ۔پھر تین سال جب گذر گئے اور آپ کے ساتھی آپ کی تربیت حاصل کر چکے۔نیز خدا تعالیٰ کے فرشتوں نے ان منکروں میں سے بھی بہت سوں کے دلوں کے زنگ کو ان روحانی اثرات اور قوت قدسی کے نتیجہ میں جو اللہ تعالیٰ اپنے مامور یا عبد کے ذریعہ پیدا کر دیتا ہے دھونا شروع کیا اور کئی ایک دل نسبتا نرم ہو گئے تو اللہ کے حکم سے کھل کے تبلیغ کی جانے لگی۔پھر تین سال کے قریب مکی زندگی کا ایک ایسا دور ہے جس میں کھلی تبلیغ اور بڑی شدید مخالفت ہوئی۔اب یہ قربانی کا تیسرا نمونہ ہے جو کامل اسوہ حسنہ ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا نمونہ کامل اسوہ ہے اور آپ کی تربیت امت مسلمہ کے لئے ایک کامل نمونہ ہے کہ کس رنگ میں آپ نے تربیت کی۔چنانچہ یہ تربیت ان تکالیف اور مصائب کو دیکھ کر ظاہر ہوتی ہے جو آپ کے صحابہ کو سہنے پڑے اور جس قسم کی سخت زندگی میں سے ان کو گذرنا پڑا یہ واقعات بتاتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نہایت کامیاب اور نہایت اعلیٰ درجہ کی تربیت تھی۔یہ تین سال گذر گئے۔