خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 135
خطبات ناصر جلد دہم ۱۳۵ خطبہ عیدالاضحیہ ۲۷ فروری ۱۹۶۹ء کی طرف اشارہ تھا کہ قربانی لے کر وہاں اس جگہ پر حضرت اسمعیل علیہ السلام کو آباد کر دیا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کی نسل کو پہلے دن یہ سبق دیا کہ تم نے اپنی آنے والی نسل کی صحیح تربیت کرنی ہے۔تمہاری قربانیاں تبھی مقبول ہوں گی جب اگلی نسل کی تربیت کی ذمہ داری بھی تم نبا ہو گے اور اگلی نسل بھی اسی طرح بشاشت کے ساتھ علی وجہ البصیرت اور خدا تعالیٰ پر پورا وثوق اور یقین رکھتے ہوئے کہ وہ سلامتی پیدا کرتا ہے اس کی راہ میں ایثار کے نمونے دکھائے گی۔ان قربانیوں کے بعد اللہ عزّ و جلّ قوم کے لئے ہلاکت کے سامان پیدا نہیں کیا کرتا۔افراد کی زندگیاں تو قربان ہو جاتی ہیں مسلمان بڑے فخر کے ساتھ شہید ہوتے ہیں لیکن یہ دکھ اور یہ مصائب اسلام اور امت مسلمہ کی ہلاکت کے لئے نہیں آتے۔تیسری قربانی جو اس سلسلہ میں عظیم تر قربانی ہے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت مکہ معظمہ اگر چہ ظاہری طور پر آباد تھا وہاں مکانات بھی بنے۔ہوئے تھے۔وہاں بظاہر انسان بھی رہتے تھے لیکن حقیقتاً وہاں انسان کی آبادی نہ تھی کیونکہ انسانیت ان کے اندر پائی نہیں جاتی تھی اور وہ انسان جس کا تعلق اپنے پیدا کرنے والے رب سے ہونا چاہیے وہ انسان وہاں کوئی نہ تھا تو اس جنگل میں ( روحانی آنکھ دیکھ رہی تھی کہ بے آباد جنگل ہے ) گو مادی اور دنیوی آنکھ یہ دیکھ رہی تھی کہ لوگ آباد ہیں مگر جس کا داؤ چلتا ہے جو چاہتے ہیں کر لیتے ہیں اور ہر قسم کے فساد کے اندر مبتلا ہیں اور ہر قسم کی صلاحیت سے وہ محروم ہیں تو اللہ تعالیٰ نے اس غیر آبا د مقام پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیدا کیا۔غیر آباد اس معنے میں کہ روحانی طور پر وہ غیر آباد تھا۔جب حضرت اسمعیل علیہ السلام کو وہاں آباد کیا گیا تو ممکن تھا کہ کوئی قافلہ راہ بھٹک کے ہی وہاں آجا تا اور ان کے پانی کا انتظام ہو جاتا اور کھانے کا انتظام ہوجاتالیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے یہ وہ جگہ تھی جہاں جو بھٹکے ہوئے تھے وہ پانی اور کھانے کا انتظام نہیں کر رہے تھے بلکہ پانی روکنے اور کھانا بند کرنے کا انتظام کر رہے تھے جیسا کہ میں ابھی مختصر ابتاؤں گا۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے آپ نے مکہ کے لوگوں کے حالات دیکھے روحانیت سے ان کا بعد دیکھا اللہ تعالیٰ سے ان کی دوری دیکھی۔بتوں کا انہیں غلام پایا۔فطرتیں ان کی مسخ