خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 134
خطبات ناصر جلد دہم ۱۳۴ خطبہ عیدالاضحیہ ۲۷ فروری ۱۹۶۹ء قربانی یہ ابتدائی نمونہ، اسوہ کے طور پر ہمارے سامنے رکھ رہی ہے دوسری قربانی جو اسوہ کے طور پر رکھی گئی وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسمعیل علیہ السلام کی باہمی قربانی تھی کہ ایک رؤیا میں دکھایا گیا کہ ایک عظیم قربانی لینا چاہتا ہوں اور تیرا امتحان یہ ہے کہ آیا اگلی نسل کو اس رنگ میں تربیت دی ہے کہ وہ اس قربانی کے بوجھ کو بشاشت کے ساتھ برداشت کرے چنانچہ بعض کے نزدیک وہ ظاہری طور پر خواب پوری کرنے لگے اور بعض کے نزدیک وہ محض تعبیر اًپوری ہوئی۔بہر حال جو اس کی تعبیر تھی وہ یہی تھی کہ خدا کی راہ میں بظاہر موت کو قبول کرنا اور خدا کی راہ میں بظاہر موت میں اپنے پیارے بچے کو پھینک دینا۔خدا تعالیٰ نے کہا کہ میں یہ قربانی لینا چاہتا ہوں۔تیری آزمائش ہو چکی اور تو ہماری رحمتوں کا وارث بن گیا اب ایک آزمائش اور ہے کہ آیا تیری تربیت صحیح ہے یا نہیں۔حضرت اسمعیل علیہ السلام کی قربانی دے اور حضرت اسمعیل علیہ السلام میری راہ میں قربانی دیں ورنہ اگر حضرت اسمعیل علیہ السلام کا بیچ میں حصہ نہ ہوتا تو زبر دستی پکڑ کے ذبح کر دیتے لیکن انہوں نے اس طرح نہیں کیا بلکہ قرآن کریم نے بتایا ہے کہ انہوں نے کہا کہ اس طرح میں نے خواب دیکھی ہے آیا تو یہ قربانی دینے کے لئے راضی ہے؟ تو ان کا فوری طور پر بے تکلف جواب یہ تھا اِفْعَلُ مَا تُؤْمَرُ ( الصفت : ١٠٣) اللہ کا جو حکم ہے وہ کرو سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللهُ مِنَ الصّبِرِينَ ( الصفت : ۱۰۳) خدا کے فضل اور اس کی توفیق سے تو مجھے صابر نو جوانوں میں پائے گا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے جس رنگ میں وہ قربانی کی اس سے ایک داغ بیل ڈالی گئی ایک بہت عظیم قربانی کی جس کا مکہ کے ساتھ تعلق تھا۔ان کو اس وقت بے آب و گیاہ صحرا میں اکیلے چھوڑ دینے کا حکم ہوا کعبہ کی عمارت کے آثار مٹ چکے تھے بنیاد میں ریت میں دبی ہوئی تھیں نہ وہاں پانی تھا نہ کھانے کی کوئی چیز تھی تھوڑا سا راشن دیا اور ان کو کہا خدا کا حکم ہے یہاں ٹھہر جاؤ۔خدا کے حکم سے آپ چلے گئے تب خدا تعالیٰ نے اس اجتماعی قربانی کو قبول کیا اور نہ صرف اس دنیا کی زندگی کے سامان پیدا کئے بلکہ اس قربانی کے نتیجہ میں اس عظیم انسان کو پیدا کیا جس نے ساری دنیا کی روحانی زندگی کے سامان پیدا کر دیئے اور دراصل یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظیم قربانیوں