خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 109 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 109

خطبات ناصر جلد دہم 1+9 خطبہ عیدالفطر ۱۲ راگست ۱۹۸۰ء اور وہاں کے میئر سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ ڈیٹن کے شہریوں میں سے جولوگ آپ کی جماعت میں شامل ہوئے ہیں اور جن کی آپ نے تربیت کی ہے وہ دوسرے شہریوں سے مختلف انسان نظر آتے ہیں۔ان میں سے کسی ایک کے خلاف آج تک کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی اور کسی بھی احمدی کے خلاف کوئی کیس نہیں بنا۔سو یہ ہے ایک فرقان۔لیکن اصل فرقان وہ ہے جو خدا کی نگاہ میں فرقان ہو۔اس کے لئے خدا نے حکم دیا ہے کہ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُهُ که جو بھی اس مہینہ کو پائے وہ روزے رکھے۔سو رمضان کے روزے مومنوں میں ما بہ الامتیاز پیدا کرنے کا ایک نہایت مؤثر ذریعہ ہیں ان کی وجہ سے ایک مومن کی رسائی خدا تک ہوتی ہے اور اس کے ساتھ مومن کا ایک زندہ تعلق قائم ہوتا ہے اور یہ زندہ تعلق ما بہ الامتیاز پیدا کرنے کا موجب بنتا ہے۔ایک مومن کے دل میں سوال پیدا ہوسکتا تھا کہ اللہ کی ہستی اور بندہ کی ہستی میں تو بڑا فرق ہے۔دونوں میں بڑا بعد ہے۔یہ فاصلہ کیسے پاٹا جائے گا اور اللہ کے ساتھ بندہ کا تعلق کیسے قائم ہوگا ؟ اس کی وضاحت اللہ تعالیٰ نے اگلی آیت میں فرمائی۔چنانچہ فرمایا۔وَ إِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ (البقرة : ۱۸۷) یعنی یہ کہ (اے رسول ! ) جب میرے بندے تجھ سے میرے متعلق پوچھیں تو تو جواب دے کہ میں ان کے پاس ہی ہوں۔جب دعا کرنے والا مجھے پکارے تو میں اس کی دعا قبول کرتا ہوں۔سو چاہیے کہ وہ دعا کرنے والے بھی میرے حکم کو قبول کریں اور مجھ پر ایمان لائیں تا وہ ہدایت پائیں۔سوخدا کے ساتھ بندہ کے زندہ تعلق کی ایک زندہ علامت یہ ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے ایسے بندہ کی دعا کو بطور خاص قبول کرتا ہے اور رمضان کے روزے رکھنے کے نتیجہ میں یہی وہ ما بہ الامتیاز ہے جو ایک مومن کو عطا ہوتا ہے اور وہ خدا تعالیٰ کی نگاہ میں فرقان کا حامل قرار پاتا ہے۔یہ تو صحیح ہے کہ اللہ تعالیٰ رمضان میں روزے رکھنے والوں کی دعائیں زیادہ قبول کرتا ہے