خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 110
خطبات ناصر جلد دہم +11 خطبہ عیدالفطر ۱۲ راگست ۱۹۸۰ء اور روزے مابہ الامتیاز یا فرقان پیدا کرنے کا ایک نہایت مؤثر ذریعہ ہیں لیکن اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ رمضان کے علاوہ عام دنوں میں وہ دعائیں قبول نہیں کرتا۔وہ ہر وقت دعائیں قبول کرتا ہے۔جب بھی اس کا کوئی بندہ مضطر ہو کر اس کے حضور جھکتا اور اس سے دعا مانگتا ہے وہ اس کی دعا کو قبول کر کے اس کے لئے ایک عید پیدا کر دکھاتا ہے۔اس آیت سے پتہ لگتا ہے کہ ایک عید تو وہ ہے جس کا دروازہ ماہ رمضان میں کھلتا ہے اور ایک عید وہ ہے جو عاجزانہ دعائیں کرنے والے ایک مومن کو ہر وقت حاصل ہوتی رہتی ہے۔أجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ سے بڑھ کر ایک مومن کے لئے اور کیا عید ہوگی۔اصل بات یہ ہے کہ ہر احمدی کو خدا تعالیٰ سے زندہ تعلق قائم کرنا چاہیے تا کہ قبولیت دعا کا حظ اسے حاصل ہو۔لیکن یہ یادرکھنا چاہیے کہ وہ خالق اور مالک ہے کبھی بندے کی مانتا ہے اور کبھی اپنی منواتا ہے اور دونوں ہی حالتیں مومن کے لئے عید کی آئینہ دار ہوتی ہیں اس لئے کہ اس کی اصل عید رضائے الہی میں ہوتی ہے۔پھر احمدی ہونے کی حیثیت میں آپ کے لئے تو قبولیت دعا کے بعض ایسے دروازے کھلے ہیں جو ہر وقت کھلے رہیں گے اور کبھی بند نہیں ہوں گے ایک تو ہیں جماعت کے لئے دعا کے دروازے کہ خدا تعالیٰ اس کی حفاظت فرمائے اور غیر معمولی ترقیات عطا کر کے اسے غلبہ اسلام کے مقصد میں کامیاب کرے۔دوسرے نوع انسانی کے لئے دعا کے دروازے کہ خدا تعالیٰ انہیں حق کو قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔جو بھی مضطر بن کر آتا ہے خدا تعالیٰ اس کے لئے دروازہ کھول دیتا ہے۔تم خدا کا ہاتھ پکڑ کر اپنی بات نہیں منوا سکتے ہاں پاؤں پڑ کر اس کا فضل حاصل کر سکتے ہو۔اس لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو ظاہری اعتبار سے تو دو عیدیں سال میں آتی ہیں لیکن قبولیت دعا پر زندہ ایمان رکھنے والے ایک مومن کے لئے ایک دن میں پانچ عیدیں بھی آسکتی ہیں۔وہ ہر نماز میں عاجزی اور تضرع کے ساتھ دعائیں مانگ کر قبولیت دعا کا حظ اٹھا کر اپنے لئے بار بار عید کے سامان پیدا کر سکتا ہے اور خدا تعالیٰ اسے سچے خواب دکھا کر اسے عید کی خوشیوں سے مالا مال