خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 108
خطبات ناصر جلد دہم ۱۰۸ خطبہ عیدالفطر ۱۲ راگست ۱۹۸۰ء اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے کہ ماہ رمضان کا بہت گہرا تعلق قرآن سے ہے۔جہاں تک قرآن کے رمضان میں نازل ہونے کا تعلق ہے۔حدیث میں آتا ہے کہ جبریل علیہ السلام رمضان میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر قرآن کا دور کیا کرتے تھے اس لئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ ساری کی ساری آیات رمضان میں بھی نازل ہوئیں۔اس لحاظ سے یہ بیان بھی درست ہے کہ سارا قرآن رمضان میں اترا۔پھر اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی تین بنیادی صفات کا ذکر کیا ہے۔پہلی صفت یہ بتائی کہ قرآن هدى للناس ہے یعنی یہ نوع انسان کے لئے ہدایت کا موجب ہے۔الناس کے لفظ میں مرد اور عورتیں دونوں شامل ہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت كافة للناس کی طرف ہوئی ہے یعنی مردوں اور عورتوں دونوں کی طرف۔اسی لئے قرآن کی ہر آیت دونوں کے لئے ہے اور ہر قرآنی حکم میں مرد و زن دونوں کو مخاطب کیا گیا ہے۔بعض آیات ایسی ہیں جن کا تعلق صرف عورتوں سے ہے اور انہی سے ہو سکتا تھا۔جیسے حمل اور دودھ پلانے سے متعلق آیات۔یہ استثنائی احکام ہیں ورنہ ہر آیت النَّاس کے لئے ہے اور اس میں مرد اور عورت دونوں شامل ہیں۔قرآن دونوں ہی کے لئے ہدایت کا موجب ہے۔ہدایت کے حقیقی اور بنیادی معنے یہ ہیں کہ اسلامی تعلیم ان راہوں کی طرف رہنمائی کرتی ہے جو خدا تک پہنچانے والی ہیں۔خدا غیر ذاتی نہیں بلکہ ذاتی خدا ہے یعنی ہر وہ شخص جو اسلام پر عمل کرتا ہے وہ خدا سے ایک زندہ تعلق قائم کرتا ہے۔دوسری بنیادی صفت قرآن کی بَيِّنَتِ مِنَ الهُدی ہے۔اللہ تعالیٰ نے ایک محدود دائرہ میں آزادی دے کر انسان کو قرآن کی شکل میں ایسی تعلیم دی ہے جو خدا تک پہنچانے والی ہے۔انسان کو چونکہ آزادی دی گئی ہے کہ وہ اپنی مرضی سے کام کرے اس لئے بَيِّنَةٍ مِّنَ الْهُدی کی رو سے قرآن ہر بات کی دلیل دیتا ہے۔تیسری بنیادی صفت قرآن کی یہ بیان کی گئی ہے کہ یہ الفرقان ہے۔یہ قرآن پر عمل کرنے والے اور عمل نہ کرنے والے کے درمیان ایک مابہ الامتیاز پیدا کر دیتا ہے۔اسی لئے ایک سچے مخلص احمدی کی زندگی دوسروں سے مختلف ہوتی ہے۔۱۹۷۶ ء میں جب میں ڈیٹن (امریکہ ) گیا