خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 103 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 103

خطبات ناصر جلد دہم ۱۰۳ خطبہ عیدالفطر ۲۵/اگست ۱۹۷۹ء حقیقی خوشی کے حصول کے لئے مقبول اعمال بجالانے کی کوشش کرو خطبہ عید الفطر فرموده ۲۵ اگست ۱۹۷۹ ء بمقام مسجد اقصی ربوه تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔ماشاء اللہ مستورات کا بڑا اجتماع ہے آج کافی شور یہاں تک پہنچ رہا ہے۔اس کے بعد فرمایا:۔آج ہماری عید ہے۔اللہ آپ سب کے لئے اس عید کو مبارک کرے۔میں نے کہا ”ہماری عید اس لئے کہ عید، عید میں فرق ہے۔خوشیاں سارا جہاں مناتا ہے ہر قوم کے مذہب کے نیز سیاسی گروپوں کے اپنے تہوار ہیں جنہیں وہ مناتے ہیں۔ہر تہوار دوسرے تہوار سے، ہر عید ہر خوشی کا دن دوسری عید اور خوشی کے دن سے مختلف ہے۔ہماری عید اس وقت ہوتی ہے جب ہم امید رکھتے ہیں اور جب ہمیں بشارت ملتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس پیشکش کو جو ہم نے اس کے حضور پیش کی قبول کر لیا۔ماہِ رمضان کے بعد عید اسی چیز کی علامت ہے، ظاہری علامت۔یہ تو خدا ہی جانتا ہے کہ کن کے روزے قبول ہوئے ، کن کی تلاوت پر خدا تعالیٰ نے نعماء کی بارش کی ، کن کے صدقہ و خیرات اس کے حضور پہنچے ، کن کی دعائیں سنی گئیں، اخوت با ہمی اور خدمت کے کن جذبات کو اس کی پیاری نگاہ نے پیار سے دیکھا لیکن خدا تعالیٰ نے ایک ظاہری