خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 102 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 102

خطبات ناصر جلد دہم خطبہ عیدالفطر ۴ رستمبر ۱۹۷۸ء پیدا ہوئی اور جماعت کا وقار قائم ہوا۔پس خدا تعالیٰ تو اپنا کام کر رہا ہے۔وہ بڑی حکمتوں والا ہے۔ہمیں کہتا ہے انگلی کٹوا کر شہیدوں میں داخل ہو جاؤ اور میرے پیار کو حاصل کرلو۔اللہ تعالیٰ ہمیں ان حقائق کے سمجھنے کی توفیق عطا کرے اور ایک احمدی سے خدا تعالیٰ جو چاہتا ہے کہ وہ اس کے حضور پیش کرے ان حالات میں وہ اس کے حضور پیش کرنے کی توفیق پائے اس زمانہ میں خدا تعالیٰ کے جو بہترین انعامات کی بشارتیں اور وعدے دیئے گئے ہیں ان کو حاصل کرنے والے ہم بنیں اور اس کے فضلوں اور رحمتوں کو دنیا میں پھیلانے والے ہم بنیں۔خطبہ ثانیہ کے بعد حضور انور کی اقتدا میں اجتماعی دعا ہوئی اور دعا کے بعد حضور نے از راہ شفقت احباب کو باری باری مصافحہ کا شرف بخشا۔(روز نامه الفضل ربوہ ۱۱ جولائی ۱۹۸۲ء صفحہ ۱ تا ۶ )