خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 104
خطبات ناصر جلد دہم ۱۰۴ به عیدالفطر ۲۵ /اگست ۱۹۷۹ء ، علامت امت محمدیہ میں اس عید کو بنایا۔ان کے لئے جن کے اعمال قبول ہو گئے حقیقی خوشی کے سامان پیدا کر دیئے اور ان کے لئے ، جن کو توجہ دلائی گئی تھی کہ تم بھی اپنے لئے حقیقی خوشی کے سامان پیدا کر سکتے ہو، اس عید کو ایک علامت بنا دیا کہ مقبول اعمال بجالانے کی کوشش کرو تا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حقیقی خوشیاں تمہارے نصیب میں ہوں۔خدا کے ایک عاجز بندے کی عید اس وقت ہوتی ہے جب اسے اس کا پیار مل جاتا ہے۔خدا کے ایک عاجز بندے کی عید اس وقت ہوتی ہے جب اس پر آسمانوں سے فرشتوں کا نزول ہوتا ہے۔خدا کے ایک عاجز بندے کی عید اس وقت ہوتی ہے جب فرشتے اس کے کان میں کہتے ہیں کہ خوش ہو، غم نہ کرو، سارے اندیشے دل سے نکال دو، خدا تعالیٰ نے تمہارے لئے بڑے انعامات مقدر کر رکھے ہیں۔خدا تعالیٰ کے بندے کی عید اس وقت ہوتی ہے جب خدا سے کچھ پالینے کے بعد اسے یہ یقین دلایا جاتا ہے کہ اور آگے بڑھو اور زیادہ پاؤ۔یہ ہے ہماری عید۔اور میری دعا ہے کہ آپ سب کے لئے یہ عید مبارک ہو۔ان کے لئے بھی جو پاکستان میں بستے ہیں ان کے لئے بھی جو افریقہ میں بستے ہیں جو یورپ میں بسنے والے ہیں جو امریکہ (شمالی اور جنوبی ) میں بستے ہیں جو جزائر کے رہنے والے ہیں اور بنی نوع انسان کے لئے بھی جلد تر اس عید کا دن چڑھے کہ جب سارے انسان ہی اپنے پیدا کرنے والے رب کریم کی یہ آواز سنیں کہ میں تم سے خوش ہوا تم بھی خوشی مناؤ اور انسان جس غرض کے لئے پیدا کیا گیا تھا بحیثیت مجموعی بنی نوع انسان کی زندگی میں وہ غرض پوری ہوا اور سوائے چند ایک استثناؤں کے سارے کے سارے ہی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں جمع ہو جائیں اور موسلا دھار بارش کی طرح برسنے والی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے وارث بنیں۔ہوتا سب کچھ خدا کے فضل سے ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اَلْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي هَدْنَا لِهَذَا وَ مَا كُنَّا لِنَهْتَدِى لَوْلَا أَن هَدْنَا اللهُ (الاعراف: ۴۴) حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے اس کا ترجمہ یہ کیا ہے ”سب تعریف اس خدا کو جس نے ہمیں بہشت میں داخل ہونے کے لئے آپ ہی سب توفیق بخشی ، آپ ہی ایمان بخشا،