خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 93 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 93

خطبات ناصر جلد دہم ۹۳ خطبہ عیدالفطر ۴ رستمبر ۱۹۷۸ء غریب شخص ہے۔جھونپڑی کے اندر رہنے والا خاندان ہے۔اس کو جا کر کہنے لگے کہ تمہارا حج کرنے کا ارادہ تھا؟ اس نے کہا ہاں ارادہ تو تھا انہوں نے کہا لیکن تم حج کر نہیں سکے۔کہنے لگا ہاں نہیں جا سکا۔پوچھا کیوں نہیں جا سکے؟ کہنے لگا کہ حج کرنے کا بڑا شوق تھا، یہ خواہش تھی کہ میں اس عبادت کی بھی توفیق پاؤں اس لئے آنہ آنہ، اٹھنی اٹھنی ، روپیہ روپیہ ( ہم اپنی زبان میں بات کرتے ہیں ان کے سکے تو اور تھے ) جوڑ کر سالہا سال کے بعد اس سال میرے پاس اتنی پونجی جمع ہوگئی کہ میں (حکم ہے کہ زادِ راہ کا میسر آنا ضروری ہے ) حج کر سکتا تھا۔میں نے ارادہ کیا کہ میں حج کرنے جاؤں۔میں حج پر جانے کو تیار تھا۔میرے گھر کے پہلو میں میری طرح ہی کا ایک غریب آدمی رہتا ہے۔میری بیوی حاملہ تھی۔میرے ہمسائے کے گھر سے گوشت پکنے کی خوشبو اٹھی۔بعض دفعہ حاملہ عورت کو اتنی زبردست خواہش پیدا ہوتی ہے کہ اگر پوری نہ کی جائے تو بچے پر اس کا بُرا اثر پڑتا ہے۔میری بیوی نے کہا ہماری دوستی ہے۔ان کے گھر گوشت پک رہا ہے وہاں سے تھوڑا سا سالن لے آؤ، میری خواہش پوری ہو جائے۔وہ کہنے لگا ہم بھی روکھی سوکھی کھانے والے تھے اس لئے میں نے برتن اٹھایا اور اپنے ہمسائے کے گھر میں گیا اور اس کو ساری بات بتائی کہ اس طرح میری بیوی کے دل میں خواہش پیدا ہوئی ہے۔مجھے کچھ تھوڑا سا سالن دے دو۔اس نے کہا نہیں ! میں تمہیں سائن نہیں دوں گا۔میں نے پوچھا کیا وجہ ہے؟ کہنے لگا بات یہ ہے کہ ہم تین دن سے بھوکے تھے اور رات کو بھی مشکل سے بچوں کو بہلا پھسلا کر بھوکا سلا یا۔صبح اٹھے تو ہمارے گھر کے عین سامنے ایک گدھا مرا پڑا تھا تو میری بیوی نے کہا اب ہماری حالت ایسی ہے کہ اسلام نے ایسی حالت میں حرام گوشت کھانے کی بھی اجازت دی ہے تم مرے ہوئے گدھے کا گوشت لے آؤ میں سالن پکاتی ہوں۔بچے بھوکے مر رہے ہیں اس گوشت سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔پس یہ تو مرے ہوئے گدھے کا گوشت ہے۔میری تو اضطراری حالت تھی اور ہے کہ مجھے خدا تعالیٰ نے اس قسم کے گوشت کے کھانے کی اجازت دی ہے مگر تمہارے گھر میں روکھا سوکھا کھانے کے لئے ہے تمہیں ایسا گوشت کھانے کی اجازت نہیں۔اس لئے تمہیں میں نہیں دے سکتا۔اس نے اس بزرگ کو کہا کہ میری طبیعت پر اس کا اتنا اثر ہوا کہ میں نے وہ تھیلی جوز ادراہ