خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 92
خطبات ناصر جلد دہم ۹۲ خطبہ عید الفطر ۴ ستمبر ۱۹۷۸ء ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بڑے سخی تھے ہر وقت ہی سخاوت کیا کرتے تھے لیکن رمضان کے مہینے میں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سخاوت اپنی انتہا کو پہنچی ہوئی ہوتی تھی۔یہ بہت ساری عبادتیں جب اکٹھی ہو گئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں آپ کی امت نے بھی ماہ رمضان میں حتی المقدور عبادتیں کیں تو خوشی کے سامان پھر دو پہلو سے پیدا ہوتے ہیں۔ایک ان کے لئے جن کی یہ عبادات مقبول ہو جاتی ہیں اور اللہ تعالیٰ انہیں اس کی خوشخبری بھی دے دیتا ہے براہ راست یا کسی اور ذریعہ سے یا ان لوگوں کے لئے جن کے لئے حدیث میں آتا ہے کہ جس قسم کا تم مجھ سے ظن رکھو گے۔میں اسی قسم کا تم سے سلوک کروں گا تو دوست کہتے ہیں کہ ہم نے حقیر کوششیں اپنے رب کے حضور پیش کر دیں ہم اپنے رب سے امید رکھتے ہیں کہ ہماری یہ حقیر پیشکش ہمارا رب قبول کرے گا اور ہمیں اس پر انعام دے گا اور اپنی رحمت کا ہم سے سلوک کرے گا اور اس طرح پر عید کا سماں پیدا ہو جاتا ہے۔جب خدا تعالیٰ قبول کرتا ہے تو جو عبادت کرنے والا ہے اسے بھی علم دیتا ہے اور بعض دوسروں کو بھی علم دیتا ہے۔ہمارے لٹریچر میں ہے کہ شروع زمانے میں ایک بزرگ ولی اللہ تھے۔خدا تعالیٰ ان سے ہمکلام ہوتا تھا وہ ایک دفعہ حج کرنے گئے تو حج کے دور ان خانہ کعبہ میں ان کو خدا تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ اس سال جتنے لوگ حج کرنے آئے ہیں سب کے حج رد کر دیئے گئے۔کسی کا حج بھی قبول نہیں کیا گیا۔وہ بڑے پریشان ہوئے کہ اللہ تعالیٰ نے پہلی خبر یہ دی ہے پھر خدا تعالیٰ نے ان کو یہ فرمایا کہ ہمارا ایک غریب بندہ دمشق کے شہر کی فلاں گلی کے فلاں مکان میں ہے وہ حج کرنے نہیں آسکا لیکن ہم نے اس کا حج قبول کیا اور اس کے طفیل اور بہت سے لوگوں کا حج بھی قبول کر لیا ہے۔جب حج کے دن گزر گئے اور لوگوں نے ارکان حج پورے کر لیے تو ان کے دل میں یہ شوق پیدا ہوا کہ میں جا کر اس شخص کو تو دیکھوں کہ جس کی وجہ سے ہمارا حج بھی قبول ہو گیا یعنی خدا تعالیٰ کا ولی الہی پیار کو حاصل کرنے والا اس کے متعلق خدا تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ تیرا حج بھی قبول نہیں ہوا، قبول ہوا ہے تو اس شخص کی وجہ سے ہوا ہے۔غالباً ان کو کشف میں اس شخص کے گھر اور گلی کا پورا نظارہ دکھا یا گیا تھا چنانچہ وہ حج کرنے کے بعد دمشق پہنچے اور اس کو تلاش کیا۔اس کے گھر پہنچے تو دیکھا وہ ایک