خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 91 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 91

خطبات ناصر جلد دہم ۹۱ خطبہ عید الفطر ۴ ستمبر ۱۹۷۸ء حالت میں نفل پڑھ رہے ہیں یعنی مسجد میں بکھرے ہوئے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے حضور گڑ گڑا کر دعائیں کر رہے ہیں۔آپ کو یہ خیال آیا کہ یہ اکٹھی نماز کی شکل میں اجتماعی دعائیں ہوں تو اس میں بھی ایک برکت ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ میری اور میرے خلفاء کی سنت کی اتباع کرو۔اس لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ایک نئی چیز سکھا دی جسے آپ نے نیک نیتی کے ساتھ اور خلوص کے ساتھ جاری کر دیا کیونکہ آپ نے دیکھا کہ ایک ادھر سے دعاؤں کی آواز آرہی ہے ایک ادھر سے آرہی ہے۔لوگ ایک دوسرے کی آوازوں سے ڈسٹرب (Disturb) ہوتے ہوں گے۔اس لئے آپ نے ان کو اکٹھا کر دیا اور اس طرح حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے حکم سے تراویح کی نماز باجماعت شروع ہو گئی۔اور اس کا جواز جیسا کہ میں نے ابھی بتایا ہے یہ ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے میری اور میرے خلفاء کی سنت کی اتباع کرو تو یہ زائد نوافل ہیں جو خاص طور پر رمضان میں پڑھے جاتے ہیں۔بعض کمزور لوگ نہیں بھی پڑھتے۔بہت سے لوگ سارا سال نوافل پڑھتے رہتے ہیں۔سوائے اس کے کہ بعض اوقات ان کو کوئی خاص مجبوری پیش آجائے لیکن جو نہیں پڑھتے ان کے لئے یہ ایک اچھا موقع ہے۔رمضان میں لوگ صبح اٹھتے ہیں چھوٹے بچے بھی اٹھ جاتے ہیں سحری کا انتظام ہو رہا ہوتا ہے۔سحری کے وقت بڑی چہل پہل شروع ہو جاتی ہے۔غرض بہت سی نفلی عبادتیں اکٹھی ہو گئیں پھر کثرت کے ساتھ قرآن کریم کی تلاوت ہے جو دوسرے مہینوں میں نہیں ہوتی۔رمضان میں کثرت سے تلاوت قرآن کریم کا حکم ہے۔پھر اپنے اخلاق کے محاسبہ کرنے کا خاص طور پر حکم ہے مثلاً کسی کو گالی نہیں دینی سختی نہیں کرنی۔اول تو کوئی مسلمان گالی دیتا ہی نہیں۔اب بعض لوگ دینے لگ گئے ہیں۔بہر حال سخت کلامی نہیں کرنی۔پیار سے بات کرنی ہے۔نرمی سے بات کرنی ہے۔اخوت کا مظاہرہ کرنا ہے۔بدخلقی نہیں دکھانی۔تیوری نہیں چڑھانی اور اس کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خاص طور پر ارشاد ہے کہ اپنے نفسوں کو رمضان کے مہینے میں قابو میں رکھو۔یہ ایک اور عبادت ہے پھر کثرت سے صدقات دینے کی سنت نبوی ہے۔حدیثوں میں آتا