خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 90
خطبات ناصر جلد دہم خطبہ عیدالفطر ۴ رستمبر ۱۹۷۸ء یہ حکم دیا ہے کہ کھاؤ اس لئے ہم کھاتے ہیں اور یہ حکم خاص طور پر عید کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وساطت سے ہم تک پہنچا ہے کہ خوشی کے موقع پر اچھے کھانے کھاؤ۔مسلمانوں کے اجتماعی موقع پر اپنے خاندان میں، اپنے دوستوں میں اور اپنی جماعت میں خوشی مناؤ۔عید مبارک دو۔ایک دوسرے کی خوشی میں شامل ہو۔پس عید کے دن ایک مسلمان کے لئے بڑی خوشی کا سماں پیدا کر دیا ہے۔مختلف ذہنوں میں خوشی کی وجوہات مختلف ہوتی ہیں۔مثلاً کوئی شخص اس لئے خوش ہوتا ہے کہ اس کے گھر بچہ پیدا ہو گیا یہ بھی اللہ تعالیٰ کی ایک رحمت ہے اگر کوئی حدود کے اندر رہتے ہوئے بچے کی پیدائش پر خوشی منائے تو یہ جائز ہے اور لوگوں کے لئے ایسی خوشیاں باعث برکت ہیں بعض لوگ اس لئے بھی خوش ہو جاتے ہیں کہ ان کے گھر بہت سا مال حرام آگیا یہ ان کی ذہنیت ہے اور کسی کے لئے خوشی کا ایک موقع یہ بھی پیدا ہو جاتا ہے کہ اس نے اپنے دشمن کو ہلاک کر دیا اور اس طرح اسلام جو زندگی دینے کے لئے آیا تھا، اس کا غلط استعمال بھی کیا اورا اپنی غلط ذہنی اقدار کے نتیجہ میں اپنے لئے خوشی کا سامان بھی پیدا ہو گیا کہ ہمارا دشمن مارا گیا بغیر کسی قانون کے اور بغیر کسی قانونی جواز کے۔اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا۔پس اگر دنیا کے انسان مختلف وجوہات کی بنا پر خوشیاں مناتے ہوں تو ہمیں یہ سوچنا پڑتا ہے کہ ہم کس وجہ سے اپنی عید کی خوشی مناتے ہیں جب ہم اس پر غور کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے لئے یہ جو خوشیاں رکھی گئی ہیں ان کا تعلق ایسے موقع کے ساتھ ہے، ایسے ایام کے ساتھ ہے جن میں خاص طور پر معمول سے زیادہ قربانیاں خدا کے حضور پیش کی جاتی ہیں اور عام معمول سے زیادہ خدا کی عبادتیں کی جاتی ہیں مثلاً ماہ رمضان ہے۔میں بہت دفعہ پہلے بھی بتا چکا ہوں اس میں بہت سی عبادتیں اکٹھی ہو گئی ہیں۔یہ روزوں کا مہینہ ہے، ماہ صیام ہے اس میں ہم روزے رکھتے ہیں یہ خاص طور پر نوافل ادا کرنے کا مہینہ ہے اس میں ہم تراویح کی نماز پڑھتے ہیں جو اجتماعی صورت اختیار کر گئی ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ سنت نہیں بلکہ خلیفہ ثانی حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک دفعہ لوگوں کو رات کے پچھلے حصہ میں دیکھا کہ وہ مسجد میں منتشر