خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 623
خطبات ناصر جلد دہم ۶۲۳ خطبہ نکاح ۱/۲۰ پریل ۱۹۷۳ء بڑی شدت کی مہم جاری تھی امت مسلمہ کے پاس اتنا بھی وقت نہیں تھا کہ وہ اپنے شہداء کو علیحدہ علیحدہ قبروں میں دفن کر سکیں کیونکہ وہ اس وقت بہت تھوڑے تھے۔چنانچہ ایک وقت علیحدہ علیحدہ قبریں بنانے پر بھی وقت خرچ نہیں کیا بلکہ بہت سے شہداء کو ایک قبر میں دفن کر دیا اور دعا کر کے چلے گئے۔اس وقت دنیائے اسلام دو حصوں میں منقسم نظر آتی ہے ( میں جس وقت دنیائے اسلام کہتا ہوں تو اس سے میری مراد پاکستان کے مسلمان نہیں بلکہ تمام دنیا میں مختلف ممالک میں بسنے والے مسلمان مراد ہیں ) مسلمانوں کا ایک بڑا حصہ وہ ہے جو یہ کہتا ہے کہ انتہا ہوگئی ناکامیوں کی۔اب تو ہماری اجتماعی حرکت یعنی امت محمدیہ کی حرکت کامیابی کی طرف اور فتح و نصرت کی طرف ہونی چاہیے۔جب میں انگلستان میں پڑھا کرتا تھا تو اس وقت مجھے ایک تجربہ ہوا۔۱۹۳۸ء کی بات ہے۔لمبا عرصہ گذر چکا ہے ہم اپنی پڑھائی ختم کر کے آکسفورڈ سے واپس آرہے تھے۔ایک بھائی یہاں سے گئے تھے۔ہم دونوں اکٹھے ہو گئے تھے۔واپسی پر ہم کچھ عرصہ کے لئے مصر میں ٹھہرے۔مصر کے مفتی اور جامعہ ازھر کے شیخ مراغی سے میری ملاقات ہوئی۔ان سے مسلمانوں کے تنزل اور خرابیوں کی عام باتیں ہوتی رہیں۔ہم دونوں ان باتوں پر متفق تھے کہ اس بات کی بڑی ضرورت ہے کہ مسلمان پھر سے مسلمان بنیں اور اپنے کردار کو، اپنی زندگی کو، اپنے اعمال کو قرآن کریم کی تعلیم کے مطابق بجالائیں اور حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ کی پیروی میں اپنی زندگی گزاریں تا کہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور رحمتوں کے وارث بنیں۔یہ گویا میں اپنی ذاتی بات کر رہا ہوں۔یہ میرا ذاتی تجربہ ہے کہ اس وقت بھی اس ضرورت کا احساس موجود تھا اور اب بھی موجود ہے۔اختلافی مسائل اپنی جگہ پر ہیں لیکن یہ ایک بنیادی بات ہے کہ اب بھی مسلمان ملتے ہیں۔وہ بھی ملتے ہیں جو بظاہر احمدیت کے اشد مخالف ہیں سبھی اس بات پر اتفاق کرتے ہیں کہ مسلمانوں کے تنزل کی انتہا ہو گئی۔خدا تعالیٰ کب ایسے سامان پیدا کرے گا کہ ہماری حرکت پھر ترقی کی طرف ہوگی۔غرض امت مسلمہ کا ایک بہت بڑا حصہ ایسا ہے جو پڑھا لکھا اور بڑا سمجھدار ہے اور دنیا کے حالات سے واقف ہے۔وہ اس حقیقت سے انکار نہیں کرسکتا کہ