خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 624
خطبات ناصر جلد دہم ۶۲۴ خطبہ نکاح ۲۰ را پریل ۱۹۷۳ء پرمشتمل ہے۔تنزّل واد بار کی حد ہو گئی ہے۔مسلمانوں کا ترقی کی طرف قدم کب اٹھے گا۔اُمت مسلمہ میں ایک دوسرا گروہ ہے اور وہ ہمارے نزدیک جماعت احمدیہ پر دوسرے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اسلام کی ترقی کے لئے کچھ ہونا چاہیے۔ہم یہ سمجھتے ہیں کہ جو کچھ ہونا تھا وہ ہو چکا ہے یعنی غلبہ اسلام کی تحریک کی ابتدا اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے کر دی ہے۔اسلام کی ترقی کا زمانہ شروع ہو چکا ہے۔پچھلے اتنی سال میں دنیا میں اسلام کے حق میں بہت کچھ رونما ہو چکا ہے۔غلبہ اسلام کے لئے اتنا عظیم کام ہوا ہے کہ آدمی حیران رہ جاتا ہے۔خود ہم حیران ہوتے ہیں حالانکہ ہم اللہ تعالیٰ کے وہ عاجز بندے ہیں جن کو اس نے اپنے ہاتھ میں پکڑا اور اپنا آلہ کار بنا کر دنیا میں اسلام کے حق میں ایک عظیم انقلاب پیدا کر دیا ہے۔یہ انقلاب ہماری ساری کمزوریوں کے باوجود، ہماری ساری غربت کے باوجود اور لوگوں کی ساری مخالفتوں کے باوجود رونما ہوا ہے۔صرف اندرونی مخالفتیں ہی نہیں بلکہ عیسائیوں کے ساتھ اس وقت ہماری زبر دست جنگ ہو رہی ہے۔تاہم یہ جنگ توپ و تفنگ کی جنگ نہیں ہے بلکہ یہ دلائل اور براہین کی جنگ ہے۔عیسائیت کے مقابلہ میں اسلام کی حقانیت ثابت کرنے کی جنگ ہے۔جس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسلام کے حق میں معجزات رونما ہوتے ہیں۔گویا اس بات پر جنگ ہورہی ہے کہ ہم کہتے ہیں عیسائیت اپنا وقت گزار چکی ہے اب اسلام کے غلبہ کے دن آرہے ہیں۔عملاً ایک عظیم انقلاب دنیا میں رونما ہو چکا ہے۔محسن انسانیت حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کو بنی نوع انسان کے دل میں پیدا کرنے کی مہم بڑی کامیابی کے ساتھ چل رہی ہے۔یہ مہم مغربی افریقہ میں چل رہی ہے۔مشرقی افریقہ میں چل رہی ہے۔جنوبی افریقہ اور پھر شمالی افریقہ میں بھی چل رہی ہے۔ان کے علاوہ دنیا کے مختلف گوشوں میں جہاں ہمیں پتہ ہی نہیں ہوتا وہاں بھی احمدیت پہنچ چکی ہے۔ہر جگہ لوگوں کو بیدار کرتی ہے۔ان کے اندر ایک جذ بہ، ایک ولولہ، ایک جوش ، ایک عزم، ایک امید اور ایک یقین پیدا کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کے غلبہ کے جو وعدے کئے ہیں وہ پورے ہو کر رہیں گے۔یہ ایک عظیم انقلاب ہے جو دنیا میں رونما ہو رہا ہے۔پس وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کی اس عظیم مہم کی حرکت اور اس کی شدت اور اس کی کامیابی اور