خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 608 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 608

خطبات ناصر جلد دہم ۶۰۸ خطبہ نکاح ۷ /دسمبر ۱۹۷۲ء بچوں کی پیدائش کا امکان پیدا ہو جاتا ہے۔پس عقلمند انسان وہ ہے جو زندگی کی حالت میں حیات کی ذمہ داریوں کو سمجھنے اور ادا کرنے والا ہو اور اسی طرح وہ بھی عقلمند انسان ہے جو ممات کی ذمہ داریوں کو سمجھنے اور ان کو ادا کرنے والا ہو مثلاً خاندان کا بڑا آدمی جب فوت ہو جاتا ہے تو اس کی فوتیدگی کے نتیجہ میں ایک ذمہ داری گھر کے ایک دوسرے فرد پر عائد ہو جاتی ہے۔پس جہاں حیات کی ذمہ داریاں ہیں وہاں ممات کی بھی ذمہ داریاں ہیں۔اخروی زندگی (ممات) کی اہم ذمہ داریاں بھی حیات پر ہیں البتہ ممات کی بعض ذمہ داریاں کسی کی وفات کے بعد کسی دوسرے فرد پر پڑتی ہیں اس سے پہلے نہیں پڑتیں۔جو شخص ان ہر دو ذمہ داریوں کو سمجھتا ہے وہ گویا کامیاب ہو گیا اس دنیا میں بھی اور دوسری دنیا میں بھی۔پھر ممات کی ایک یہ ذمہ داری بھی ہے کہ وفات یافتہ کا ذکر خیر کیا جائے اس کے لئے مغفرت کی دعائیں کی جائیں۔پھر کسی کی وفات کے نتیجہ میں پسماندگان پر یہ ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ اس کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کریں وغیرہ یہ سب ذمہ داریاں وفات سے تعلق رکھتی ہیں۔اس لئے مرنے والوں کے پیچھے وہ نسل آنی چاہیے جو مرحومین کی تربیت یافتہ اور ان کے رنگ میں رنگین ہو۔ان کی خوبیوں کی مالک اور ان کے نور سے حصہ لینے والی ہو۔وہ ان سے اپنے حالات میں زیادہ وسعت نظر رکھنے اور زیادہ قربانیاں دینے والی ہولیکن اگر کوئی شخص زندگی کی ذمہ داری کو تو ایک حد تک سمجھے لیکن وہ ذمہ داری جو کسی اور کی وفات سے تعلق رکھتی ہے اسے نہ سمجھے تو وہ بھی ترقی کی طرف قدم نہیں بڑھا رہا بلکہ تنزل کی طرف قدم بڑھا رہا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں ہر قسم کی ذمہ داریوں کو سمجھنے اور انہیں نباہنے کی توفیق عطا فرمائے۔آج دو جنازوں لے کے غم ہمارے لئے اکٹھے کئے گئے تھے۔یہ اللہ تعالیٰ کا کتنا احسان ہے۔اس نے ساتھ ہی دو خوشیوں کے سامان بھی پیدا کر دیئے امید ہے جس طرح جانے والوں کے لے یہ دو جنازے حضرت حکیم محمد اسماعیل صاحب سیکھوانی سرگودھا صحابی حضرت مسیح موعود اور محترمہ آمنہ بیگم صاحبہ اہلیہ مکرم خواجہ عبدالحمید صاحب ربوہ کے تھے۔حضور انور نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی تھی۔