خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 607
خطبات ناصر جلد دہم ۶۰۷ خطبہ نکاح ۷ /دسمبر ۱۹۷۲ء عقلمند انسان وہ ہے جو حیات و ممات دونوں کی ذمہ داریاں ادا کرنے والا ہو خطبہ نکاح فرموده ۷ / دسمبر ۱۹۷۲ء بمقام مسجد مبارک ربوه حضور انور نے بعد نماز عصر از راہ شفقت مندرجہ ذیل نکاحوں کا اعلان فرمایا۔۱- محترمہ امۃ العزیز ثریا صاحبہ بنت مکرم میاں گلزار احمد صاحب چنیوٹ کا نکاح محترم عبدالباسط طاہر صاحب ابن مکرم عبدالسمیع صاحب سے تین ہزار روپے حق مہر پر۔۲۔محترمہ ناصرہ شریا صاحبہ بنت مکرم حاجی شریف احمد صاحب ربوہ کا نکاح محترم عبدالشکور صاحب شاکر ابن مکرم میاں حاجی عبدالرحمان صاحب چنیوٹ سے دو ہزار روپے حق مہر پر قرار پایا۔خطبہ مسنونہ کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔زندگی اور موت انسان کے ساتھ لگی ہوئی ہیں۔آگے زندگی اور پیچھے موت ہے۔اس لحاظ سے یہ دنیا ایسے ہی ہے جیسے ایک ہی سواری پر ہر دو تیار بیٹھے ہوں۔ہر زندگی موت کا امکان پیدا کرتی ہے۔کیونکہ سوائے اللہ تعالیٰ کی ذات کے ہر مخلوق فنا ہونے والی ہے۔گو فنا کے لفظ کو ہم مختلف معنوں میں استعمال کرتے ہیں لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ ہر مخلوق فنا ہونے والی ہے اس لئے وقت آنے پر موت کا امکان حقیقت بن جاتا ہے۔میاں بیوی کا رشتہ نکاح کے ذریعہ قائم کیا جاتا ہے اور اسی شادی کے نتیجہ میں بہت سے