خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 476
خطبات ناصر جلد دہم خطبہ نکاح ۴ رستمبر ۱۹۶۹ء تقویٰ تب پیدا ہوتا ہے جب انسان پر اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کے جلال کا جلوہ ظاہر ہو۔جب انسان پر اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کے جلال کا جلوہ ظاہر ہوتا ہے تو اس کا اپنا کچھ باقی نہیں رہنے دیتا۔اس پر ایک کامل فنا طاری ہوتی ہے اور اسے عبودیت کا ملہ کا مقام حاصل ہوتا ہے۔جب انسان اپنے نفس پر موت وارد کر لیتا ہے تب اسے اللہ تعالیٰ سے ایک نئی زندگی ملتی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت تامہ سے حصہ لیتا ہے۔گویا اس طرح انسان ہر جہت سے ہر طرف سے اللہ تعالیٰ کی ر بوبیت کے شرف سے مشرف ہوتا ہے۔اس فنا کے مقام سے انسان جو کچھ اپنے رب کو مخاطب کر کے کہہ سکتا ہے۔وہ تو یہی ہے کرم خاکی ہوں مرے پیارے نہ آدم زاد ہوں مگر اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ایسے عجز وعبودیت کے پیکر مجسم کو جس رنگ میں جہاں تک اس کی استعداد ہو اپنے کمال تک پہنچا دیتا ہے اور ایسے شخص سے بڑے پیار سے کہتا ہے کہ تو نے میری خاطر اپنی آنکھیں کھوئیں اب میں تیری آنکھیں بن جاؤں گا۔تو نے میری خاطر اپنی زبان کو کاٹ کر پرے پھینک دیا اب میں تیری زبان بن جاؤں گا۔اسی طرح دوسرے حواس ہیں جب انسان اللہ تعالیٰ کی خاطر ان کو کھو بیٹھتا ہے تو اللہ تعالیٰ ان کے بدلے اسے نئے حواس عطا کرتا ہے۔وہ وہی دیکھتا ہے جسے خدا تعالیٰ چاہے کہ وہ دیکھے۔وہ وہی سنتا ہے جسے خدا تعالیٰ چاہے کہ وہ سنے۔اور وہ وہی کچھ کہتا ہے جسے اس کا رب چاہتا ہے کہ وہ کہے۔اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ اس سے خوش ہو جاتا ہے۔ہماری یہ دعا ہے کہ جس طرح ان نو جوانوں (جن کے نکاح ہو رہے تھے ) کے بزرگوں میں سے بہتوں نے اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کے جلال کے جلوے دیکھے اور اللہ تعالیٰ کی محبت کی لذت اور سرور کو حاصل کیا اسی طرح یہ نوجوان اور ان سے جو آئندہ نسل چلنے والی ہے وہ بھی اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کے جلال اور اس کی محبت اور اس کے پیار کے جلوے دیکھنے والی ہو۔آمین۔اس کے بعد حضور انور نے ایجاب و قبول کرایا اور ان رشتوں کے بابرکت ہونے کے لئے حاضرین سمیت لمبی دعا فرمائی۔از رجسٹر خطبات ناصر غیر مطبوعہ )