خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 141
خطبات ناصر جلد دہم ۱۴۱ خطبہ عیدالاضحیہ ۱۷ / فروری ۱۹۷۰ء انسان اپنی خواہشات اور مرضیوں کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کی رضا اختیار کرے خطبہ عیدالاضحیه فرموده ۱۷ فروری ۱۹۷۰ء بمقام مسجد مبارک ربوه / تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔گذشته چند روز میری طبیعت خراب رہی ہے اور ضعف کی کافی تکلیف میں یہ دن گزارے ہیں۔اس لئے میں اس وقت بڑا ہی مختصر خطبہ دوں گا۔اللہ تعالیٰ نے فضل کیا ہے آج دوستوں سے مل کر چند باتیں کرنے کا موقع مل گیا۔آپ دعا بھی کریں کہ اللہ تعالیٰ پوری صحت دے اور اپنی منشا کے مطابق پوری صحت کے ساتھ سب ذمہ واریاں ادا کرنے کی توفیق عطا کرے۔یہ عید جو قربانیوں کی عید کہلاتی ہے جو بنیادی سبق ہمیں دیتی ہے وہ اسلام کی روح کا سبق ہے۔اسلام کی روح یہ ہے کہ انسان اپنی تمام خواہشات اور مرضیوں کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کی رضا کو اختیار کرے اور ایک قسم کی موت اپنے اوپر وارد کر کے ایک نئی زندگی اپنے رب سے حاصل کرے۔اسی کو دوسرے الفاظ میں اللہ تعالیٰ کی محبت ذاتی بھی کہتے ہیں۔جب اللہ تعالیٰ کی محبت انسان کے دل اور اس کے دماغ اور اس کی روح کو کچھ اس طرح اپنی گرفت میں لے لیتی ہے کہ پھر ان کا اپنا کچھ باقی نہیں رہتا۔اسی روح کی ظاہری اور مادی نشانی کے طور پر یہ حج مقرر ہوا ہے اور طواف اس محبت ذاتی