خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 142 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 142

خطبات ناصر جلد دہم ۱۴۲ خطبہ عیدالاضحیہ ۱۷ / فروری ۱۹۷۰ء کی ایک ظاہری نشانی ہے کہ ہم ہر طرف سے متوجہ ہو کر چاروں طرف سے گھوم کر تیری طرف ہی آتے اور اپنی تمام تو جہ کو تیری طرف ہی پھیر تے اور ہر چیز تجھ سے ہی حاصل کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ہر غیر کی طرف ہماری پیٹھ اور ہر عادت اور ہر حالت اور زندگی کے ہرلمحہ میں صرف تیری طرف ہی ہماری توجہ ہے۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو جس طرح جسمانی اور ذہنی اور اخلاقی قوتیں اور استعداد میں عطا کی ہیں اسی طرح اللہ تعالیٰ نے انسان کو روحانی قوتیں اور استعدادیں بھی عطا کی ہیں۔قرآن کریم نے بڑی تفصیل سے ان قوتوں اور استعدادوں کے متعلق ہمیں بتایا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے قرآنی آیات کی تفسیر کی روشنی میں ان کی وضاحت کی ہے۔کسی وقت اللہ تعالیٰ نے توفیق دی تو تفصیل سے یہ مضمون بھی بیان ہونے والا ہے۔ایک قوت ،قوت روحانی جو انسان کی روح کو دی گئی ہے وہ یہ ہے کہ وہ اپنے رب، اپنے خالق حقیقی کے وجود کا اقرار کر سکتا ہے۔یہ قوت اقرار جو ہے یہ ایک روحانی قوت ہے جو اسے دی گئی ہے ہر مخلوق اللہ تعالیٰ کی حمد کر رہی ہے۔فرشتوں کی طرح ایک زندگی گزار رہی ہے یعنی اللہ تعالیٰ جو کہتا ہے وہ کرتے ہیں۔اسی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے انسان کے اس آزاد حلقہ اختیار سے باہر ہر چیز کو فرشتوں کے زمرہ میں شامل کیا ہے لیکن یہ اقرار کہ وہ خالق حقیقی ہے کانشیئس مائینڈ (Conscious mind) میں یعنی شعور اور پوری بیداری کی کیفیت کے ساتھ وہ سوائے انسان کے اور کوئی نہیں کر سکتا صرف انسانی روح کو یہ قوت عطا کی گئی ہے کہ وہ اپنے پیدا کرنے والے کے وجود کا اقرار اور اعلان کرے۔یہ ایک روحانی طاقت ہے جو انسان کو دی گئی ہے۔اس کے ساتھ ملتی جلتی جو دوسری روحانی طاقتیں انسان کو دی گئی ہیں ان میں سے ایک طاقت انسانی روح کو یہ دی گئی ہے کہ وہ غیر متناہی معارف کے قبول کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔یہا اپنی ذات میں بڑا اہم اور وسیع مضمون ہے۔اگر انسانی روح کو غیر متناہی معارف کے حصول کی قوت نہ دی جاتی تو غیر متناہی قرب کے دروازے اس پر کھلنے محال ہو جاتے۔تو اللہ تعالیٰ نے بڑا فضل کیا ہے۔