خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 115
خطبات ناصر جلد دہم ۱۱۵ خطبہ عیدالفطر ۲/اگست ۱۹۸۱ء میں سینکڑوں سے نہیں بڑھتی عجیب انقلاب ہے۔یہ انقلاب دل جیتنے کے ذریعہ سے بپا ہوا ہے،سر کاٹنے کے ذریعے سے بپا نہیں ہوا اور دل جیتے گئے ہر زمانے میں پھر یہ سلسلہ دل جیتنے کا جاری رہا۔مخالفانہ منصوبے بھی بنے ، وہ نا کام بھی ہوئے۔ایک تسلسل قائم رہا نیک اور پاک اور مطہر وجود جن کو خدا تعالیٰ کی رحمت اور اس کی برکت نے اپنے ہاتھ سے پاک کیا تھا اس گروہ کا۔پھر اس زمانہ میں ہم پہنچے اور ہر سال پہلوں نے بھی اپنی عید میں منائیں ، مگر میں اب اپنی عید کا ذکر کر نے لگا ہوں ہر سال ہم نے محمد اور محمد کے خدا کے لئے ہزاروں دل جیتے ، دکھ کسی کو نہیں دیا، گردن کسی کی نہیں اڑائی اور دل جیت کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے ان کو جمع کر دیا اور تعداد میں روز بروز یہ زیادتی ہو رہی ہے۔بڑی برکتیں آسمان سے نازل ہو رہی ہیں۔ہماری عید کی خوشی اس واسطے ہے کہ اللہ نے کہا خوشی مناؤ ( ظاہری خوشی تو سارے ہی مناتے ہیں۔تہوار تو غیر مسلموں میں بھی پائے جاتے ہیں ) جو حقیقی خوشی ہے۔اس لئے خوشی کرو کہ میں نے تمہارے اعمال کو قبول کیا اور جب خدا تعالیٰ اعمال قبول کرتا ہے تو اس کا نتیجہ نکلتا ہے۔اگر کوئی زمیندارا اپنی زمین میں گندم بونے کے زمانے میں دانے ڈال دے تو دانے ڈالنا اس کی کامیابی نہیں دانوں کا پنگر آنا جرمینیشن (Germination) ہو ان کی ، پھر ان کی حفاظت اللہ تعالیٰ کرے۔پھر وعدہ ہے ایک دانے سے سات سنبل اور ہر سنبل میں سودا نہ یعنی ایک دانے سے سات سودا نہ، ابھی اس مقام تک انسان کی دنیوی سعی اور کوشش نہیں پہنچی لیکن بہر حال بڑی برکت ڈالتا ہے دنیوی لحاظ سے بھی اللہ تعالیٰ۔تو محض کوشش کا میابی نہیں۔اب پیچھے بارشیں ہوئی ہیں۔زمیندار جانتے ہیں۔ہم نے بھی آپ اپنے جانوروں کے لئے چارہ بیجا۔بارش ہوگئی ، بیج ہی نہیں اُگا۔پھر بویا، پھر بارش ہوگئی اور پھر بیج نہیں اُگا۔تو یہ بھی خدا تعالیٰ بتا رہا ہے ہمیں کہ جب تک میرا حکم نہ ہو تمہاری کوشش کامیاب نہیں ہو سکتی۔یہ جو عید الفطر کی خوشی ہے، یہ بتاتی ہے کہ خدا تعالیٰ نے کوششوں کو قبول کیا۔ہماری خوشی اس بات میں نہیں کہ ہم نے روزے رکھے اور دن کے وقت بھوکے رہے اور سحری اور افطار کے وقت خوب پر اٹھے کھائے اور رمضان کے مہینے میں وزن کم کرنے کی بجائے اور بڑھا لیا اپنا۔اس میں نہیں ہماری خوشی۔ہماری خوشی اس بات میں ہے کہ