خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 114 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 114

خطبات ناصر جلد دہم ۱۱۴ خطبہ عیدالفطر ۲/اگست ۱۹۸۱ء وہ کامل نہیں تھا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام ایک ذوشان نبی ،شریعت لانے والے نبی تھے لیکن ان کا دائرہ اثر روحانی بنی اسرائیل تک محدود تھا اور ان کی قوت قدسیہ کا زمانہ بعثت موسوی سے لے کر بعثت محمدی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے درمیان محدود تھا اور جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی وہ ختم ہو گیا۔یہ سارے انقلاب بھی بطفیل محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے یعنی آپ سے پہلے جو آئے چھوٹے اور بڑے۔کیونکہ یہ اعلان کیا گیا ہے قرآن کریم میں۔ایک سے زیادہ بار۔کہ جو پہلوں کو ملا وہ کامل کتاب ہی کا ایک حصہ تھا، جو کامل کتاب محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم بنی نوع انسان کی طرف لے کر آئے۔اس انقلاب کی ایک عظمت یہ ہے کہ مادی طاقت کے ذریعے سے بپا نہیں ہوا۔اس کو کامیاب کرنے کے لئے انسان کے سر نہیں کاٹے گئے بلکہ جو مُردہ تھے ان کو زندگی اور حیات دی گئی۔اعلان ہوا قرآن کریم میں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز پر لبیک کہو اس لئے کہ وہ اس لئے بلا رہے ہیں کہ تم مردہ ہو اور وہ تمہیں زندہ کرنا چاہتے ہیں۔دنیا کا کوئی انقلاب ایسا نہیں جس نے اپنی عظمت کو کٹے ہوئے سروں کے میناروں کے او پر قائم اور بلند نہیں کیا۔چنگیز خاں نے بعض دفعہ لاکھوں سروں کے مینار بنائے اور اس طرح اپنی عظمت کا اظہار کیا۔اس زمانہ میں اشترا کی انقلاب نے جیسے ایران کی طرف سے اعلان ہوا تھا تاریخی لحاظ سے میں نہیں کہہ سکتا کس حد تک وہ اعداد و شمار درست ہیں لیکن ایران نے کہا تھا شاید کہ دس ملین (Million) انسان ایک واقعہ میں انہوں نے قتل کر دیئے اپنی عظمت کے اظہار کے لئے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو وہ عظیم انسان ہیں کہ ساری عمر میں جو مجبور کئے گئے دشمنوں سے اور مخالفوں سے جنگ کرنے پر ان ساری جنگوں میں دس سوانسان بھی نہیں جو مسلمانوں کے ہاتھ مارے گئے۔یہ دوطرفہ عظمت ہے ایک طرف مسلمان کی جان کی حفاظت ( میں ان جنگوں کا ذکر کر رہا ہوں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہوئیں ) مسلمانوں کی زندگی کی حفاظت خدا تعالیٰ نے اس عظیم معجزانہ طریق پر کی کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے یعنی چند جانیں دے کر عرب میں وہ انقلاب بپا ہو گیا اور اس انقلاب کو قائم کرنے کے لئے جو مخالف تھے ان کی بھی زیادہ جانیں نہیں لی گئیں۔ان کی تعداد بھی میرے خیال