خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 116
خطبات ناصر جلد دہم ۱۱۶ خطبہ عیدالفطر ۲/اگست ۱۹۸۱ء اللہ تعالیٰ نے ہمیں عبادات کا جو گلدستہ تھا مجموعہ عبادات ، اس کے بجالانے کی توفیق عطا کی اور پھر قبول کیا۔قبولیت کا پتہ تو لگتا ہے نتائج کے ساتھ۔اگر ہماری زبانیں پہلے سے زیادہ نشستہ اور مہذب ہو گئیں، ہمارے روزے قبول ہو گئے۔اگر ہمارے جھگڑے پہلے سے کم ہو گئے ہمارے روزے قبول ہو گئے۔اگر ہم پر اللہ تعالیٰ کے پیار کے جلوے پہلے سے زیادہ ہو گئے ہمارے روزے انفرادی طور پر قبول ہو گئے۔اگر ہمیں پہلے سے زیادہ علوم قرآنی خدا تعالیٰ کی طرف سے سکھائے جانے لگے، ہمارے، ہمارے روزے قبول ہو گئے ، اگر پہلے سے زیادہ جماعت احمدیہ کی ترقی ایک سال میں ہوئی عید الفطر اور عید الفطر کے درمیان، تو ہماری کوششیں کامیاب ہوگئیں اور اللہ تعالیٰ کے بڑے فضل ہم پر نازل ہوئے۔تو انفرادی خوشی اپنی جگہ درست لیکن حقیقی خوشی ہماری اس چیز میں ہے کہ ہمیں نظر آ رہا ہے کہ پچھلی عید الفطر کے بعد اس عید الفطر تک اتنی ترقی کی ہے جماعت احمدیہ نے۔دکھ پہنچانے والوں نے دکھ پہنچایا۔خدا تعالیٰ نے کہا تھا کہ ان کی زبان سے، ان کے ہاتھ سے تمہیں ایذا پہنچائی جائے گی۔انہوں نے خدا کا وعدہ پورا کر دیا ہمارے حق میں۔خدا تعالیٰ نے کہا تھا اس کے نتیجے میں تم نا کام نہیں ہو گے بلکہ آگے بڑھو گے۔دیکھو پچھلے سال میں ، قرطبہ کی مسجد (عید الفطر اور عید الفطر کے درمیان) قریباً مکمل ہو گئی۔اتنا عظیم خدا تعالیٰ نے فضل کیا ہے دس سال پہلے دنیائے اسلام سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ ایسا واقعہ ہوسکتا ہے۔جس چیز کو انسانی دماغ نے ناممکن قرار دیا سال گزشتہ نے اسے ممکن بنادیا۔اسی طرح ایک بنیاد پڑ گئی جاپان میں مشن ہاؤس کے خریدنے کی۔ابھی سودا نہیں ہوالیکن گفت و شنید ہورہی ہے۔بعض قانونی دقتیں ہیں وہ دور ہو جائیں گی اور ایک اچھا مشن ہاؤس بن جائے گا اور ایک اڈا مضبوط قائم ہو جائے گا وہاں تبلیغ کے لئے۔(اب یہ گھر خریدا جا چکا ہے ) پہلے سے بڑھ کر زندگی پیدا ہوئی جماعت کے اندر۔میں نے ایک موقع پر کہا تھا کہ ہم تو اس گیند کی طرح ہیں کہ جتنے زور سے تم زمین پہ بیٹھو گے اتنا ہی وہ آسمان کی طرف اٹھے گا۔تو ہماری عید اس لئے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس عرصہ میں، ایک سال کے عرصہ میں جو عید الفطر