خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 101 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 101

خطبات ناصر جلد دہم 1+1 خطبہ عیدالفطر ۴ ستمبر ۱۹۷۸ء مہینہ بھوکا رہنا پڑتا ہے۔تو جو جماعتی اور اجتماعی عید ہے اس کے لئے تو بہت زیادہ قربانیاں کرنی پڑتی ہیں ہمارے خدا میں جو طاقت ہے وہ اپنی قدرت کا نشان دکھا دے گا۔اس لئے ہمیں تو کوئی فکر نہیں ہے۔اگر دنیا کی خاطر یہ دھندا ہوتا تو پھر ہمیں فکر ہونی چاہیے تھی کہ ہماری دکان لٹ گئی تو کیا کریں گے لیکن جب ہے ہی خدا کا سب کچھ تو خدا آپ ہی حفاظت کرے گا۔اس نے ناکام کرنے کے لئے تو مہدی کو نہیں بھیجا دنیا میں۔اسلام نے غالب آنا ہے اور جماعت احمدیہ کو اس لئے قائم کیا گیا ہے۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو جو بشارتیں دی گئی ہیں اللہ تعالیٰ انہیں بھولا نہیں ، بعض لوگ بھول جائیں تو ان کی بدقسمتی ہے احمدیوں کو یہ یا درکھنا چاہیے کہ جس نے انہیں ۹۰ سال سے ہزاروں دفعہ ایسے موقع پر بچایا کہ جب بیچنے کا ظاہری صورت میں کوئی امکان نہیں تھا۔وہ خدا سوتا نہیں ، وہ خدا کمزور نہیں ہوتا ، وہ اونگھتا بھی نہیں۔قرآن کریم نے اس کی یہ شان بیان فرمائی ہے اس کی طاقت میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی۔وہ اسی طرح زندہ، بیدار، ساری قوتوں والا ہے۔اس کا حکم اب بھی اس یو نیورس میں چل رہا ہے۔وہ جب کہتا ہے کہ میں تمہارے ساتھ کھڑا ہوں تو جس طرح وہ پہلے مدد کرتا تھا اب بھی مدد کرے گا۔گھبرانے کی بات نہیں۔ہمارا کام ہے کہ ہم قربانیاں دیتے چلے جائیں۔ہمارا یہ کام ہے کہ بچنے کی جائز تدابیر کریں یہ نہیں کہ تدبیر ہی نہیں کرنی تدبیر کرنے کا بھی ہمیں حکم ہے۔۱۹۷۴ء میں بھی باہر کی جماعتوں نے بڑا اچھا نمونہ دکھایا تھا دنیا میں ظلم کو روکنے کے لئے، دنیا کے ضمیر کو جگانے کی کوشش کی تھی۔وہ تو کام ہوتے ہی رہتے ہیں لیکن ہمیں یہ فکر نہیں ہے کہ ہم نا کام ہو جائیں گے یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ خدا کہتا ہے کہ تم نا کام نہیں ہو گے، خدا تعالیٰ کہتا ہے مہدی علیہ السلام کے ذریعہ میں ساری دنیا میں اسلام کو غالب کروں گا اور وہ خدا جونشان دکھا رہا ہے وہ اب بھی جماعت کے اندر اپنے نیک بندوں سے ہمکلام ہوتا ہے اور اس کے نتیجہ میں ان کو ہدایت کرتا ہے اب ہمارے سامنے بیٹھے ہوئے ہیں مغربی افریقہ کے دوست یہ گواہ ہیں کہ ۱۹۷۰ ء میں خدا نے مجھے ایک نئی سکیم چلانے کے لئے حکم دیا تھا اور اس سے پہلے کے اور بعد کے حالات میں زمین آسمان کا فرق پڑ گیا۔اللہ تعالیٰ نے بڑی برکتیں ڈالیں اور جماعت میں وسعت