خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 100 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 100

خطبات ناصر جلد دہم 10+ خطبہ عیدالفطر ۴ رستمبر ۱۹۷۸ء میں نے ان کو تنبیہ کی کہ دیکھو خطرہ ہے ہوشیار ہو جاؤ۔بھامبڑی گاؤں میں دو نمبر داریاں تھیں ایک مسلمانوں کی اور ایک سکھوں کی اور یہ مسلمان سکھوں سے مسلمان ہوئے ہوئے اور اب بھی کسی کا چا اور ماموں سکھوں میں تھے۔وہ کہنے لگے کہ سکھ کہتے ہیں تم ہمارے جدی پشتی رشتہ دار تمہیں ہم نے کیا کہنا ہے، تم آرام سے بیٹھے رہو اور مجھے خبر آتی تھی کہ سکھوں نے ان پر حملہ کرنا ہے ان کو بڑا سمجھایا کہ وقت پر نکل آؤ۔سامان جتنا بچا سکتے ہو یا قیمتی سامان کے علاوہ باقی سامان چھوڑ کر آجاؤ لیکن وہ نہ مانے اور ایک دن ان کو خود ہی پتہ لگ گیا کہ سکھوں نے رات کو قتل کر دینا ہے۔پھر جو کپڑے پہنے ہوئے تھے ان میں بھاگے اپنی عزتیں بچا کر اپنی عورتوں اور لڑکیوں کے ساتھ قادیان میں آگئے۔اتنے دشمن تھے۔وہاں آکر ان کا جو سب سے بڑا لیڈر تھا وہ تھا تو زمیندار اور اسی قسم کا ذہن تھا ، کوئی پڑھا لکھا یا خدا رسیدہ تو تھا نہیں۔جو لاٹھی وہ ہمارے خلاف استعمال کرتا تھا وہی لاٹھی لے کر کھڑا ہو گیا، کہنے لگا اب احمدیت کی صداقت کا اس سے بڑا نشان تم نے اور کیا دیکھنا ہے، ساری عمر ان کی مخالفت کرتے رہے اور آج اگر یہ نہ دیں تو ہم کھانا نہیں کھا سکتے ، بھوکے مر جائیں۔ہم نے ان کو کپڑے دیئے۔ان کو گندم دی پسوا کر۔گندم دے دی کہ اپنی مرضی سے پسوا لو ہمارے خرچ پر۔رہائش کے لئے مکان دیئے۔اس نے لاٹھی کے زور سے ایک لمبی چوڑی فہرست تیار کر وائی اور انگوٹھے لگوا کر کئی سو آدمیوں کی فہرست بیعت کی حضرت مصلح موعودؓ کے پاس بھیجی۔آپ نے کہا اس حالت میں میں تمہاری بیعت لینے کے لئے تیار نہیں کہ یہ اپنے پر اعتراض لے لوں کہ جب تم پھنسے ہوئے تھے ، تکلیف میں تھے، کچھ چارہ نہیں تھا ان کے لئے ، اس وقت ان کو احمدی بنالیا۔یہ تو جبراً احمدی بنانے والا کام ہے۔اب میں تمہاری بیعت نہیں لوں گا۔اب بھی وہ لیڈر مجھے ملتا رہتا ہے اور اب بھی وہ اسی دماغ کا آدمی ہے۔کہتا ہے آپ نے اس وقت بیعت نہیں لی تھی اب ہم نے احمدی نہیں ہو نا مگر یہ عید تھی ہمارے لئے اور اس آگ میں سے جس کو دنیا آگ سمجھتی تھی اس میں ہمارے لئے عید نظر آ رہی تھی۔پس اجتماعی عید میں اس طرح آتی ہیں۔ان کے لئے قربانی کرنی پڑتی ہے ایک فرد کو ایک