خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 505 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 505

505 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 07 اکتوبر 2011ء خطبات مسرور جلد نهم تھک جاتے ہیں اور نتیجہ کچھ نہیں نکلتا اور ایک وہ راہ کہ محنت کرنے سے اس پر نتیجہ مرتب ہوتا ہے۔پھر آگے صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ (الفاتحة: 7) یعنی ان لوگوں کی راہ جن پر تو نے انعام کیا اور وہ وہی صراط مستقیم ہے جس پر چلنے سے انعام مرتب ہوتے ہیں۔پھر غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ۔نہ اُن لوگوں کی جن پر تیر اغضب ہوا اور ولا الصَّالِينَ۔اور نہ اُن کی جو دُور جا پڑے ہیں“۔( ملفوظات جلد نمبر 2 صفحہ 679-680 مطبوعہ ربوہ۔) پس دعا کے آداب کا بھی ہمیں کچھ پتہ ہونا چاہئے۔اللہ تعالیٰ کی بنیادی صفات جو رب ، رحمان، رحیم ، مالک یوم الدین ہے اُن پر کامل ایمان ہو اور جب ان صفات پر کامل اور مکمل ایمان ہو گا تو پھر ہی عبادت اور دعا کی طرف توجہ ہوتی ہے اور بندہ عاجزی سے اُس سے مدد کا طلب گار ہوتا ہے۔اُن انعامات کے حصول کے لئے اُسے پکارتا ہے جن سے اللہ تعالیٰ اپنے خالص بندوں کو نوازتا ہے۔یہ خوف رہنا چاہئے کہ میرا کوئی فعل کوئی عمل اللہ تعالیٰ کے غضب کو بھڑ کانے والا نہ ہو۔ہر وقت اللہ تعالیٰ کی خشیت دل میں قائم ہو۔ہمیشہ ایک عاجز بندہ اس کوشش میں ہوتا ہے کہ کبھی میں اپنے خدا سے دور نہ ہوں۔کبھی وہ وقت نہ آئے جب میں خدا کو بھلانے والا بنوں۔پس جب ایسی حالت ہوتی ہے تو دعائیں قبول ہوتی ہیں اور انعامات نزدیک کر دیئے جاتے ہیں، فتوحات کے نظارے دکھائے جاتے ہیں، دشمن کی تباہی اور بربادی نظر آتی ہے۔پس جیسا کہ میں نے کہا آئیں اب پہلے سے بڑھ کر اپنے ایمان کو مضبوط کریں، خالص ہو کر اُس کے آگے جھکیں۔اگر ہمارا دشمن انتہا تک پہنچ گیا ہے تو ہم بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس مصرعے کے مصداق بننے کی کوشش کریں کہ ”نہاں ہم ہو گئے یارِ نہاں میں“۔( در ثمین اردو، بشیر احمد، شریف احمد اور مبارکہ کی آمین صفحہ 58- الحکم 10 دسمبر 1901ء شمارہ نمبر 45 جلد نمبر 5 صفحہ 3 کالم نمبر 2) یقینا جب ہم اپنے خدا کی مدد اُس میں ڈوب کر اُس سے مانگیں گے تو وہ دوڑتا ہوا آئے گا اور ہمارے مخالفین کو تباہ و برباد کر دے گا۔اگر ایک بندہ جو اللہ تعالیٰ سے خالص تعلق رکھنے والا تھا بادشاہ کے درباریوں کو رات کے تیروں سے ، رات کی اُن دعاؤں سے جو عرش کے پائے ہلا دیا کرتی ہیں، اُن دعاؤں سے شکست دے سکتا ہے انہیں گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر سکتا ہے، اُن درباریوں کو یہ کہنے پر مجبور کر سکتا ہے کہ ہم ان تیروں کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔(ماخوذ از تعلق باللہ صفحہ نمبر 2-3 تقریر حضرت مصلح موعودؓ جلسہ سالانہ 28 دسمبر 1952ء) تو یقینا ہم جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ماننے والے ہیں، جن کو اللہ تعالیٰ نے یہ خوشخبری دی تھی کہ میں تیرے اور تیرے پیاروں کے ساتھ ہوں۔(تذکرہ صفحہ نمبر 630 مطبوعہ ربوہ ایڈیشن چہارم 2004ء) اگر ہم دعائیں کریں گے ، رات کے تیروں سے دشمن کا مقابلہ کریں گے تو یقینا ہماری کامیابی ہے۔لیکن شاید اُن درباریوں کے اندر کوئی نیکی کی رمق تھی جس کی وجہ سے اُن درباریوں نے اُس بزرگ کو رات کے تیروں کے خوف سے تنگ کرنا، خوف کی وجہ سے تنگ کرنا چھوڑ دیا اور اپنی جگہ بدل لی، گانے بجانے چھوڑ دیئے۔لیکن ان لوگوں کو جو آج مولوی کہلاتے ہیں، علماء کہلاتے ہیں، جو رسول کے نام پر ، اس رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر جو رحمت للعالمین ہے، ظلم کا بازار گرم کئے ہوئے ہیں