خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 506 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 506

506 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 07اکتوبر 2011ء خطبات مسرور جلد نهم ان میں تو کوئی نیکی کی رمق نہیں ہے۔انہیں تو نہ خدا پر یقین ہے نہ رسول پر یقین ہے۔ان سے تو کوئی بہتری کی امید نہیں کی جاسکتی۔ان کا مقدر تو اب لگتا ہے کہ صرف تباہی ہے جو صرف اور صرف ہمارے رات کے تیروں سے ہو سکتی ہے۔ہم اس مسیح محمدی کے غلام ہیں جن کو خدا تعالیٰ نے تسلی دی تھی، جیسا کہ میں نے کہا کہ ، ”میں تیرے اور تیرے پیاروں کے ساتھ ہوں“۔پس جب ہم اپنے پیارے خدا کو خالص ہو کر پکاریں گے ، اپنی راتوں کے تیروں کو دشمن پر چلائیں گے تو یقینا خدا اپنی قدرت کے خاص نشان دکھائے گا۔پس دعا ایک ایسا ہتھیار ہے کہ اگر کوئی اس سے کامل یقین اور خالص ہو کر کام لے تو کوئی اس کے مقابلے پر ٹھہر نہیں سکتا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام خدا تعالیٰ کے بھیجے ہوئے اور اُس کے فرستادے ہیں اور وہ عظیم ہستی ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں اس زمانے میں بندے کو خدا سے ملانے کے لئے آئے تھے تو پھر اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے آپ سے جو وعدے ہیں وہ پورے ہوں گے اور ضرور پورے ہوں گے انشاء اللہ۔کیونکہ ہمیں اس بارے میں ہلکا سا بھی شک نہیں کہ نعوذ باللہ خدا تعالیٰ اپنے وعدے پورے نہیں فرماتا۔وہ اپنے وعدے پورے فرماتا ہے اور ضرور فرماتا ہے ، وہ سچے وعدوں والا ہے۔جیسا کہ میں نے کہا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دعویٰ سے لے کر آج تک مخالفتوں کی آندھیاں چلتی رہی ہیں یہاں تک کہ ایک وقت میں خلافت ثانیہ میں قادیان کی اینٹ سے اینٹ بجانے کی احراریوں نے بڑماری تھی۔پھر ایک شخص نے حکومت کے نشے میں جماعت احمدیہ کے ہاتھوں میں کشکول پکڑانے کی بڑماری تھی۔پھر کسی نے اپنی حکومت کے نشے میں احمدیت کو کینسر کہہ کر اسے جڑ سے اکھیڑنے کی قسم کھائی تھی لیکن نتیجہ کیا ہوا کہ آج احمدیت دنیا کے دوسو ممالک میں پھیل چکی ہے۔پس یہ سلسلہ خدا تعالیٰ کا پیارا سلسلہ ہے جس نے اپنے پیارے کو اس زمانے میں بھیج کر اسلام کی آبیاری کے لئے اس سلسلے کو جاری فرمایا ہے۔اور ہر آن ہم اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت کے نظارے دیکھتے ہیں۔پس اگر فکر کی کوئی بات ہو سکتی ہے تو یہ نہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام خدا کے سچے اور فرستادے نہیں۔یا یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے اپنے وعدوں کو نعوذ باللہ پورا نہیں فرمارہا بلکہ فکر صرف اس بات پر ہونی چاہئے کہ ہم اپنے فرض کو احسن طور پر ادا کرنے والے ہیں یا نہیں ؟ ہم دعاؤں کی طرف توجہ دینے والے ہیں یا نہیں، ہم انابت الی اللہ کا حق ادا کرنے والے ہیں یا نہیں؟ اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزی سے جھکنے والے ہیں یا نہیں ؟ پس اب یہ ہمارا کام ہے کہ اپنا فرض ادا کریں۔اپنے دلوں میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق ظالمانہ الفاظ سُن کر اور پڑھ کر صرف افسوس کرنے والے اور دلوں کی بے چینی کا ظاہری اظہار کرنے والے نہ ہوں بلکہ اپنی راتوں کی دعاؤں سے خدا تعالیٰ کی تقدیر کو جلد تر اپنے حق میں پورا کروانے کی کوشش کرنے والے بنیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں انفرادی طور پر اور اجتماعی طور پر بھی ایسی دعاؤں کی توفیق دے جو اُس کے رحم اور فضل کو کھینچنے والی ہوں۔ہم ایسی دعائیں کرنے والے ہوں جو عرش الہی کو ہلا دیں اور اللہ تعالیٰ اپنی فوجوں کو حکم دے ، اپنے فرشتوں کو حکم دے کہ جاؤ اور جا کر ان مظلوموں کی مدد کرو۔اللہ تعالیٰ فرشتوں کو یہ کہے کہ جو مجھے اس دعا کے ساتھ پکار رہے ہیں کہ اِنِّي مَغْلُوبٌ