خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 504
504 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 07 اکتوبر 2011ء خطبات مسرور جلد نهم نہیں ہے۔پھر پاکستان میں ہی جماعت اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایمان میں ترقی کر رہی ہے اور ویسے بھی اللہ تعالیٰ کے بیشمار فضل ہیں جو وہ دیکھ رہی ہے اور پھر دنیا میں جس طرح اللہ تعالیٰ جماعت کو متعارف کروا رہا ہے اور ترقیات دکھا رہا ہے یہ بھی اللہ تعالیٰ کے خاص فضل سے ہماری معمولی کوششوں اور معمولی دعاؤں کے پھل ہیں۔دوسری بات یہ کہ اگر کسی کے ذہن میں یہ ہلکا سا بھی شائبہ ہے کہ نعوذ باللہ ہماری دعائیں اللہ تعالیٰ نہیں سنتا تو اُسے استغفار کرنی چاہئے اور یاد رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالی مالک ہے اور ہمارا کام مالک سے مانگتے چلے جانا ہے۔اس کے بھی کچھ آداب ہیں اور یہ آداب ادا کرنا ہمارا کام ہے جنہیں ہم نے پوری طرح ادا کرنا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام دعا کے آداب کے بارے میں ہمیں خاص طور پر توجہ دلاتے ہیں۔آپ نے ہمیں بتایا کہ دعا کرتے ہوئے کبھی تھک کر مایوس نہیں ہونا چاہئے اور اللہ تعالیٰ پر کبھی بدظنی نہیں کرنی چاہئے کہ وہ سنتا نہیں۔ایک تو دعاؤں کی قبولیت قانونِ قدرت کے تحت اپنا وقت لیتی ہے، دوسرے قبولیت کے نظارے ضروری نہیں کہ اُسی صورت میں نظر آئیں جس صورت میں دعا میں مانگا جا رہا ہے۔بلکہ اللہ تعالیٰ اور صورتوں میں اپنے پیار کا اظہار فرماتا ہے۔(ماخوذ از ملفوظات جلد نمبر 2 صفحہ 693 مطبوعہ ربوہ۔) جیسا کہ میں نے کہا کہ دنیا کی ترقیات میں ، پاکستان کے احمدیوں کی قربانیوں اور دعاؤں کا بہت بڑا حصہ ہے۔تیسری یہ بات کہ بندے کو اپنے حال پر بھی غور کرنا چاہئے کہ کیا اُس نے خالص ہو کر اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرتے ہوئے اپنے سر کو اللہ تعالیٰ کے آستانے پر جھکایا ہے ؟ پس غور کریں گے تو قصور بندے کا ہی نکلے گا۔پھر ایک جگہ دعا کے آداب کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : خدا تعالیٰ سے مانگنے کے واسطے ادب کا ہونا ضروری ہے اور عقلمند جب کوئی شے بادشاہ سے طلب کرتے ہیں تو ہمیشہ ادب کو مد نظر رکھتے ہیں۔اسی لئے سورۃ فاتحہ میں خدا تعالیٰ نے سکھایا ہے کہ کس طرح مانگا جاوے اور اس میں سکھایا ہے کہ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ (الفاتحه : 2) - یعنی سب تعریف خدا کو ہی ہے جو رب ہے سارے جہان کا۔الرَّحْمٰنِ۔یعنی بلا مانگے اور سوال کئے کے دینے والا۔الرَّحِیمِ۔یعنی انسان کی سچی محنت پر ثمرات حسنہ مرتب کرنے والا ہے۔ملِكِ يَوْمِ الدِّينِ (الفاتحہ: 4)۔جزا سزا اُسی کے ہاتھ میں ہے۔چاہے رکھے چاہے مارے“۔فرمایا اور جزا سزا آخرت کی بھی اور اس دنیا کی بھی اُسی کے ہاتھ میں ہے۔“ ایک جزا سزا اس دنیا کی ہے اور ایک آخرت کی، دونوں اُسی کے ہاتھ میں ہیں۔فرمایا کہ جب اس قدر تعریف انسان کرتا ہے تو اسے خیال آتا ہے کہ کتنا بڑا خدا ہے جو کہ ربّ ہے ، رحمن ہے ، رحیم ہے۔اسے غائب مانتا چلا آرہا ہے “۔یعنی یہ دعا جب کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی ان صفات پر ایمان بالغیب ہوتا ہے اور پھر اُسے حاضر ناظر جان کر پکارتا ہے“۔یہ پہلی حالتیں جو اللہ تعالیٰ کی صفات ہیں ان پر ایمان بالغیب ہوتا ہے اور اس حد تک بڑھ جاتا ہے کہ پھر اللہ تعالیٰ کو وہ حاضر ناظر جانتا ہے ، اپنے سامنے بیٹھا ہوا دیکھتا ہے اور پھر پکارتا ہے کہ اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ (الفاتحة: 5، 6) یعنی ایسی راہ جو کہ بالکل سیدھی ہے اس میں کسی قسم کی کبھی نہیں ہے۔ایک راہ اندھوں کی ہوتی ہے کہ محنتیں کر کے