خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 17
خطبات مسرور جلد نهم 17 2 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 14 جنوری 2011ء خطبه جمعه فرموده مورخہ 14 جنوری 2011ء بمطابق 14 صلح 1390 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح ،لندن (برطانیہ) تلاوت فرمائی: تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اس آیت کی خُذِ الْعَفْوَ وَامُرُ بِالْعُرْفِ وَاعْرِضْ عَنِ الْجهلِينَ (الاعراف 200)۔عفوا اختیار کر ، اور معروف کا حکم دے اور جاہلوں سے کنارہ کشی اختیار کر۔آنحضرت صلی علیم کے بارہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے اس فقرے نے کہ كَانَ خُلُقُهُ الْقُرْآن۔(مسند احمد بن حنبل جلد 8 صفحہ 144 حدیث: 25108) یعنی آپ کی زندگی قرآنی احکام اور اخلاق کی عملی تصویر تھی۔آپ کے اعلیٰ ترین اخلاق کے وسیع سمندر کی نشاندہی فرما دی کہ جاؤ اور اس سمندر میں سے قیمتی موتی تلاش کرو۔اور خلق عظیم کے جو موتی بھی تم تلاش کرو گے اس پر میرے پیارے آقا حضرت محمد مصطفی صلی علی نظم و کی مہر ثبت ہو گی۔یہ ہے وہ مقامِ خاتمیت نبوت جو الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي (المائدة:4) کے خدائی ارشاد میں ہمیں نظر آتا ہے۔پس دین کا کمال اور نعمت کا پورا ہونا آنحضرت صلی لام پر آخری شرعی کتاب اتار کر اللہ تعالیٰ نے آپ کی ذات میں پورا فرما دیا۔پس آپ سے زیادہ کون اس الہی کتاب کو سمجھنے والا اور اپنے رب کے منشاء کو سمجھنے والا ہو سکتا ہے ؟ آپ صلی یکم کی زندگی کا ہر پہلو جہاں قرآن کی عملی تصویر ہے وہاں اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ہمارے لئے اسوہ حسنہ بھی ہے۔اس وقت میں آپ کے سامنے آنحضرت صلی نیم کی سیرت کے ایک حسین پہلو کی چند جھلکیاں پیش کروں گا جس نے نیک فطرت لوگوں کو تو آپ کے عشق و محبت میں بڑھا دیا۔اور منافقین کے گند سے صرفِ نظر کرتے ہوئے جب آپ نے یہ خُلق دکھایا کہ وَاَعْرِضْ عَنِ الْجهلِينَ تو دنیا پر ان لوگوں کی فطرت واضح ہو گئی۔یہ خُلق جس کے بارے میں میں بیان کرنا چاہتا ہوں یہ عفو “ ہے۔