خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 16 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 16

خطبات مسرور جلد نهم 16 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 07 جنوری 2011ء گرہن کا وہ وقت تھا اور ان کی وفات کا جو وقت تھاوہ ایک ہی تھا یا شاید اس سے سورج گرہن کی بھی کوئی نسبت ہو۔اس قسم کی باتوں کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں۔ایک حدیث میں آتا ہے ”حضرت مغیرہ بن شعبہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ا ظلم کے زمانے میں آپ کے صاحبزادے ابراہیم علیہ سلام کی وفات کے دن سورج کو گرہن لگا تو بہت سے لوگ کہنے لگے کہ سورج کو ابراہیم کی وفات کی وجہ سے گرہن لگا ہے۔اس پر رسول اللہ صلی علیہم نے فرمایا: سورج اور چاند کو کسی کی موت یا حیات کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا۔جب تم گر ہن دیکھو تو نماز پڑھو اور دعائیں کرو۔“ (بخاری کتاب الكسوف باب الصلوة فى كسوف الشمس حديث:1040) تمہار ا صرف یہ کام ہے۔پس کبھی گرہن دیکھیں تو یہ اصل طریق ہے جو آنحضرت صلی یکم نے فرمایا ہے کہ نماز کسوف و خسوف پڑھی جائے۔گرہن کی نماز پڑھی جائے۔دنیا میں اس دن اور بھی بہت سارے لوگ فوت ہوئے ہوں گے، پیدا بھی ہوئے ہوں گے اور ہر ایک نے کسی نہ کسی کو کوئی نہ کوئی مقام دیا ہوتا ہے۔پھر تو ہر ایک جو بھی ان کے اپنے قریبی ہیں ، پیارے ہیں، ان کے بارے میں یہی کہیں گے کہ چاند گرہن، سورج گرہن جو لگا ہے وہ اس وجہ سے لگا ہے کہ فلاں کی وفات ہوئی ہے یا فلاں پیدا ہوا ہے۔اس سے غلط قسم کی بدعات راہ پاتی ہیں۔اس لئے احمدیوں کو ہمیشہ ان سے بچنا چاہئے۔صرف وہ کریں جس کا اللہ اور اس کے رسول نے حکم دیا ہے۔اس کے علاوہ میں دعا کی ایک تحریک بھی کرنا چاہتا ہوں۔کل مردان میں مخالفین احمدیت نے پھر ہمارے بعض احمدیوں پر فائرنگ کی جس کی وجہ سے ہمارے ایک نوجوان میاں وجیہ احمد نعمان جو میاں بشیر احمد صاحب مردان کے بیٹے ہیں۔پچیس سال ان کی عمر ہے۔ان کے کولہے پر گولی لگی ہے۔زخمی ہیں اور ہسپتال میں داخل ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کو شفائے کاملہ عاجلہ عطا فرمائے اور دشمنوں کو بھی کیفر کر دار تک پہنچائے۔الفضل انٹر نیشنل مورخہ 28 جنوری 2011 ء تا 3 فروری 2011 ء جلد 18 شمارہ 4 صفحہ 5 تا 9)