خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 594 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 594

594 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 02 دسمبر 2011ء خطبات مسرور جلد نهم مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تو اسلام کے مختلف فرقوں کو اکٹھا کرنے آئے تھے اور ہر قسم کی زیادتی سے پاک کرنے آئے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو خدا تعالیٰ نے مسلمانوں کو ایک کرنے کا کام سپر د کرتے ہوئے الہاماً فرمایا ہے کہ ”سب مسلمانوں کو جو روئے زمین پر ہیں جمع کرو، عَلى دِينِ وَاحِدٍ “ ( تذکرہ صفحہ نمبر 490 ایڈیشن چہارم 2004ء مطبوعہ ربوہ) پس آپ تو آئے ہیں فرقوں کو ختم کرنے کے لئے اور تمام مسلمانوں کو ایک ہاتھ پر ، ایک دین پر اکٹھا کرنے کے لئے۔اس لحاظ سے جیسا کہ میں نے کہا بعض اقتباسات میں پیش کروں گا۔سب سے پہلے میں مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا وہ اقتباس سامنے رکھتا ہوں جس میں آپ نے خلفائے راشدین کے طریق پر چلنے کو مومن ہونے اور مسلمان ہونے کی نشانی بتایا ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ : میں تو یہ جانتا ہوں کہ کوئی شخص مومن اور مسلمان نہیں بن سکتا جب تک ابو بکر ، عمر، عثمان، علی رضوان الله عَلَيْهِمْ اَجْمَعِین کا سارنگ پیدا نہ ہو۔وہ دنیا سے محبت نہ کرتے تھے بلکہ انہوں نے اپنی زندگیاں خدا تعالیٰ کی راہ میں وقف کی ہوئی تھیں“۔لیکچر لدھیانہ روحانی خزائن جلد نمبر 20 صفحہ نمبر 294) خلفائے راشدین کے مقام کے بارے میں پھر ایک اور جگہ سر الخلافہ کے صفحہ 328 میں آپ فرماتے ہیں۔یہ صفحے میں اس لئے نمبر بولا ہے کہ یہ عربی کی کتاب ہے اور عربی والوں کو صبح میں نے حوالے کا صفحہ نمبر دے دیا تھا تا کہ اُن کو ترجمے میں آسانی رہے۔کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جو زبان ہے، اسی اصل الفاظ میں اگر عربوں کے بھی سامنے آئے تو زیادہ اثر رکھتی ہے کیونکہ ترجمان ترجمے کے اُس مقام تک نہیں پہنچ سکتے چاہے وہ عربی دان ہی ہوں جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیان فرمایا ہے۔بہر حال آپ فرماتے ہیں کہ : ”خدا کی قسم ! ( یہ خلفائے کرام ) وہ لوگ ہیں جنہوں نے سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی نصرت و اعانت میں موت کے منہ میں بھی جانے سے دریغ نہ کیا اور خدا کی خاطر اپنے والدین اور اپنی اولاد تک کو چھوڑنا اور اُن سے قطع تعلق کرنا گوارا کر لیا۔انہوں نے اپنے دوستوں سے لڑائی مول لے لی۔خدا تعالیٰ کی خاطر اپنے اموال و نفوس کو قربان کر دیا۔اس کے باوجود وہ نادم و ماتم کناں رہے کہ وہ کما حقہ اعمال بجانہ لاسکے۔اُن کی آنکھیں اکثر خواب راحت کی لذت سے نا آشنار ہیں اور اپنے نفسوں کے آرام کا خیال بھی نہ کیا۔وہ تن آسان و عافیت کوش نہ تھے۔پس تم نے کیسے گمان کر لیا کہ یہ لوگ ظالم و غاصب، جادہ عدل کے تارک اور جور و جفا کے خوگر تھے حالانکہ اُن کے متعلق ثابت ہے کہ وہ بندہ حرص و ہوا نہ تھے اور آستانہ الہی پر گرے رہتے تھے۔یہ ایک قوم تھی جو خدا میں فنا ہو گئی“۔(اردو ترجمه از عربی عبارت، سر الخلافه ، روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 328) پس فرمایا کہ یہ لوگ خلفائے راشدین جو تھے انہوں نے اپنا سب کچھ قربان کر دیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم