خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 595 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 595

خطبات مسرور جلد نهم 595 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 02 دسمبر 2011ء اور اسلام کی خاطر اور اللہ تعالیٰ میں فنا ہو گئے۔پھر سر الخلافۃ کے ہی صفحہ 355 میں آپ حضرت ابو بکر کے متعلق فرماتے ہیں کہ : آپ مکمل معرفت والے ، عارف، حلیم اور رحیم فطرت والے تھے اور آپ انکسار اور غربت کی حالت میں زندگی بسر کرتے تھے۔آپ بہت زیادہ عفو، شفقت اور رحم کرنے والے تھے۔اور آپ اپنی پیشانی کے نور سے پہچانے جاتے تھے۔اور آپ کو محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے گہرا تعلق تھا۔اور آپ کی روح خیر الوریٰ کی روح سے ملی ہوئی تھی۔اور اس نور سے ڈھانپ دی گئی تھی جس نور سے اُن کے پیش رو اور محبوب الہی کو ڈھانپ دیا گیا تھا۔اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دانائی کے نور کے نیچے اور آپ کے عظیم فیوض کے نیچے چھپا دی گئی تھی۔اور آپ فہم قرآن اور سید الرسل اور فخر نوع انسانی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں سب سے ممتاز تھے۔اور جب آپ پر نشأة اُخروی اور اسرارِ الہی کا ظہور ہوا تو آپ نے تمام دنیاوی تعلقات کو توڑ دیا اور جسمانی تعلقات کو چھوڑ دیا اور محبوب کے رنگ میں رنگین ہو گئے۔اور مطلوب واحد کے لئے تمام مرادیں ترک کر دیں۔اور آپ کا نفس جسمانی کدورتوں سے خالی ہو گیا۔اور سچے خدا کے رنگ میں رنگین ہو گیا۔اور رب العالمین کی رضا میں غائب ہو گیا۔اور جب صادق حُبّ الہی آپ کے رگ وریشہ میں اور آپ کے دل کی تہہ میں اور آپ کے وجود کے ذرات میں متمکن ہو گئی اور اس کے انوار ، اُس کے اقوال و افعال اور قیام و قعود میں ظاہر ہو گئے تب آپ کو صدیق کا لقب دیا گیا“۔(اردو تر جمه از عربی عبارت، سر الخلافه ، روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 355) یعنی کہ جب آپ مکمل طور پر آنحضرت صلعم کی ذات میں فنا ہو گئے تو پھر آپ کو صدیق کا لقب ملا۔یہ آپ کا مقام ہے۔پھر حضرت ابو بکر صدیق کے مقام صدیقیت کی مزید تصویر کشی کرتے ہوئے کہ کیوں اور کس طرح آپ کو یہ مقام ملا۔آپ فرماتے ہیں کہ : آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو صدیق کا خطاب دیا ہے تو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ آپ میں کیا کیا کمالات تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا ہے کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی فضیلت اس چیز کی وجہ سے ہے جو اُس کے دل کے اندر ہے۔اور اگر غور سے دیکھا جائے تو حقیقت میں حضرت ابو بکر نے جو صدق دکھایا اس کی نظیر ملنی مشکل ہے۔اور سچ تو یہ ہے کہ ہر زمانہ میں جو شخص صدیق کے کمالات حاصل کرنے کی خواہش کرے اُس کے لئے یہ ضروری ہے کہ ابو بکری خصلت اور فطرت کو اپنے اندر پیدا کرنے کے لئے جہاں تک ممکن ہو مجاہدہ کرے اور پھر حتی المقدور دعا سے کام لے۔جب تک ابو بکری فطرت کا سایہ اپنے اوپر ڈال نہیں لیتا اور اسی رنگ میں رنگین نہیں ہو جاتا، صدیقی کمالات حاصل نہیں ہو سکتے“۔فرماتے ہیں ابو بکر ی فطرت کیا ہے ؟ اس پر مفصل بحث اور کلام کا یہ موقعہ نہیں کیونکہ اس کے تفصیلی بیان کیلئے بہت وقت درکار ہے“۔فرمایا کہ ”میں مختصراً ایک واقعہ بیان کر دیتا ہوں اور وہ یہ کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے