خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 537
خطبات مسرور جلد نهم 537 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 28 اکتوبر 2011ء فرماتے ہیں پس ہر شخص کا فرض ہے کہ اس وقت خدا تعالیٰ سے کشور کار کے لیے دعا کرے“ (کہ جو کام ہیں وہ پورے ہوں۔جس مقصد کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آئے ہیں وہ پورے ہوں) اور دعاؤں میں لگا رہے۔ہمارے سلسلہ کی بنیاد نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ پر ہے۔پھر اس سلسلہ کی تائید اور تصدیق کے لیے اللہ تعالیٰ نے آیاتِ ارضیہ اور سماویہ کی ایک خاتم ہم کو دی ہے“۔( حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی سچائی کے جو زمینی اور آسمانی نشانات ہیں وہ دیئے ہیں اور ایک ایسی مہر دی ہے جو تمام لوگوں پر آپ کی صداقت کی حجت ہے) فرمایا ” یہ بخوبی یاد رکھو کہ جو شخص خدا تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے اسے ایک مہر دی جاتی ہے اور وہ مہر محمدی مہر ہے جس کو ناعاقبت اندیش مخالفوں نے نہیں سمجھا“۔( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 467 468 مطبوعہ ربوہ) اب اس زمانے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جو بھی آئے گا وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں آئے گا اور وہ آپ کی ہی مہر ہے جس کے تحت وہ کام کرے گا لیکن لوگ نہیں سمجھتے۔لیکن فرمایا تم اپنے نمونے قائم کرو تا کہ دنیا سمجھے کہ یہ سلسلہ قائم ہوا ہے جو خدا تعالیٰ سے خاص تعلق جوڑنے والا ہے۔پھر آپ فرماتے ہیں : ”اے میری جماعت !خدا تعالیٰ آپ لوگوں کے ساتھ ہو۔وہ قادر کریم آپ لوگوں کو سفر آخرت کے لئے ایسا طیار کرے جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب طیار کئے گئے تھے۔خوب یاد رکھو کہ دنیا کچھ چیز نہیں ہے۔لعنتی ہے وہ زندگی جو محض دنیا کے لئے ہے اور بد قسمت ہے وہ جس کا تمام ہم تو غم دنیا کے لئے ہے۔ایسا انسان اگر میری جماعت میں ہے تو وہ عبث طور پر میری جماعت میں اپنے تئیں داخل کرتا ہے کیونکہ وہ اس خشک ٹہنی کی طرح ہے جو پھل نہیں لائے گی“۔(تذکرۃ الشہادتین۔روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 63) پھر ہماری اصلاح اور استقامت کے لئے صحیح طریق بتاتے ہوئے آپ فرماتے ہیں : پس میرے نزدیک پاک ہونے کا یہ عمدہ طریق ہے اور ممکن نہیں کہ اس سے بہتر کوئی اور طریق مل سکے کہ انسان کسی قسم کا تکبر اور فخر نہ کرے۔نہ علمی، نہ خاندانی، نہ مالی“۔( اس قسم کے تکبر جو ہیں یہ عموماً انسانوں میں پائے جاتے ہیں۔کسی کو علم کا فخر ہے۔کسی کو اپنے خاندان کا، کسی کو مال کا۔فرمایا کسی قسم کا تکبر نہ کرے) ”جب خدا تعالیٰ کسی کو آنکھ عطا کرتا ہے تو وہ دیکھ لیتا ہے کہ ہر ایک روشنی جو ان ظلمتوں سے نجات دے سکتی ہے وہ آسمان سے ہی آتی ہے اور انسان ہر وقت آسمانی روشنی کا محتاج ہے۔آنکھ بھی دیکھ نہیں سکتی جب تک سورج کی روشنی جو آسمان سے آتی ہے نہ آئے۔اسی طرح باطنی روشنی جو ہر ایک قسم کی ظلمت کو دور کرتی ہے اور اس کی بجائے تقویٰ اور طہارت کا نور پیدا کرتی ہے آسمان ہی سے آتی ہے۔میں سچ سچ کہتا ہوں کہ انسان کا تقویٰ، ایمان، عبادت، طہارت سب کچھ آسمان سے آتا ہے۔اور یہ خدا تعالیٰ کے فضل پر موقوف ہے وہ چاہے تو اس کو قائم رکھے اور چاہے ( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 213۔مطبوعہ ربوہ ) تو دور کر دے"۔