خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 536 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 536

536 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 28 اکتوبر 2011ء خطبات مسرور جلد نهم پس یہ وہ حقیقی اسلام ہے جو بندے کا خدا سے تعلق جوڑ کر پھر حقوق العباد کی طرف بھی توجہ دلاتا ہے۔اور یہی حقیقی اسلام صحابہ نے پایا اور سیکھا اور عمل کر کے دکھایا اور یہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہمیں سکھانے آئے ہیں، ہمیں بتانے آئے ہیں، ہمیں اُن راستوں پر چلانے آئے ہیں۔پس اس کے لئے ہمیں اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے۔اس وقت اس سلسلے میں میں آپ کے سامنے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے چند اقتباسات پیش کروں گا جو ہمیں اپنے جائزوں کی طرف اپنی حالتوں کی طرف توجہ دلانے والے ہیں۔سب سے پہلے تو میں نے جو اقتباس لیا ہے اس میں آپ نے اس زمانے کا نقشہ کھینچا ہے اور پھر بتایا کہ جماعت کو کیسا ہونا چاہئیے؟ آپ عام علماء کے بارے میں جو اس زمانے کے علماء ہیں جنہوں نے آپ کو نہیں مانا فرماتے ہیں کہ : میں دیکھتا ہوں کہ اس وقت قریباً علماء کی یہی حالت ہو رہی ہے لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ (الصف: 03) "قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ علماء کی آجکل یہی حالت ہے کہ تم وہ کیوں کہتے ہو جو تم کرتے نہیں فرمایا کہ یہ اس ) کے مصداق اکثر پائے جاتے ہیں اور قرآنِ شریف پر بلفتن ایمان رہ گیا ہے؛ ورنہ قرآن شریف کی حکومت سے لوگ بکلی نکلے ہوئے ہیں۔احادیث سے پایا جاتا ہے کہ ایک وقت ایسا آنے والا تھا کہ قرآن شریف آسمان پر اُٹھ جائے گا۔میں یقینا جانتا ہوں کہ یہ وہی وقت آگیا ہے۔حقیقی طہارت اور تقویٰ جو قرآن شریف پر عمل کرنے سے پید اہوتا ہے آج کہاں ہے؟ اگر ایسی حالت نہ ہو گئی ہوتی تو خدا تعالیٰ اس سلسلہ کو کیوں قائم کرتا۔ہمارے مخالف اس بات کو نہیں سمجھ سکتے لیکن وہ دیکھ لیں گے کہ آخر ہماری سچائی روز روشن کی طرح کھل جائے گی“۔فرماتے ہیں ”خدا تعالیٰ خود ایک ایسی جماعت تیار کر رہا ہے جو قرآنِ شریف کی ماننے والی ہو گی“۔(اب یہ بہت بڑی ذمہ داری ہے جو آپ نے جماعت پر ڈالی ہے۔آپ نے توقع رکھی ہے کہ قرآنِ کریم کی ماننے والی ہو گی۔قرآنِ کریم کو مانا صرف ایک کتاب کو مانا نہیں بلکہ اُس کے احکامات پر عمل کرنا ہے) فرمایا: ”ہر ایک قسم کی ملونی اس میں سے نکال دی جائے گی ہمیں اپنے یہ جائزے لینے کی ضرورت ہے تاکہ ہر ایک قسم کی ملونی جو دنیاوی ملونی ہے اس میں سے نکال دی جائے۔) اور ایک خالص گروہ پید ا کیا جاوے گا اور وہ یہی جماعت ہے۔اس لیے میں تمہیں تاکید کرتا ہوں کہ تم خدا تعالیٰ کے احکام کے پورے پابند ہو جاؤ اور اپنی زندگیوں میں ایسی تبدیلی کرو جو صحابہ کرام نے کی تھی۔ایسا نہ ہو کہ کوئی تمہیں دیکھ کر ٹھو کر کھاوے“۔(ہر احمدی کو نمونہ ہونا چاہئے) فرمایا: ”ہاں میں یہ بھی کہتا ہوں کہ ہر شخص کا فرض ہے کہ وہ افتراء اور کذب کے سلسلہ سے الگ ہو جاوے۔پس تم دیکھو اور منہاج نبوت پر اس سلسلہ کو دیکھو“۔(جو سلسلہ نبوت کے طریق پر چل رہا ہے۔جو نبوت چلانا چاہتی ہے اُس پر چلو) ” یہ میں جانتا ہوں کہ جب خدا تعالیٰ کا فضل ہوتا ہے اور زمین پر بارش ہوتی ہے تو جہاں مفید اور نفع رساں بوٹیاں اور پودے پیدا ہوتے ہیں اُس کے ساتھ ہی زہریلی بوٹیاں بھی پیدا ہو جاتی ہیں“۔(اس بارے میں آپ نے بتایا کہ کچھ لوگ ایسے بھی پیدا ہوں گے جو غلط قسم کے دعوے کرنے والے ہوں گے۔بہر حال پھر آپ