خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 538
خطبات مسرور جلد نهم 538 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 28 اکتوبر 2011ء پس ہر قسم کی جو عنایات ہیں اللہ تعالیٰ کی ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہیں۔اللہ تعالیٰ چاہے تو قائم رکھتا ہے، چاہے تو ختم کر دیتا ہے تو پھر تکبر کس بات کا؟ نہ کسی کو اپنے تقویٰ پر زعم ہونا چاہئے، نہ اپنی ایمانی حالت پر ، نہ اپنی عبادتوں اور دعاؤں پر زعم ہو، نہ اپنی پاکیزگی پر زعم ہو ، اسی طرح جیسا کہ پہلے بیان ہوا ہے نہ ہی دنیاوی معاملات میں۔ہر چیز اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملتی ہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ کی طرف ہمیشہ جھکے رہنا چاہئے۔فرمایا: ” پس سچی معرفت اسی کا نام ہے کہ انسان اپنے نفس کو مسلوب اور لاشئے محض سمجھے “ (یعنی اس کے نفس کی کوئی ہستی ہی نہیں ہے، کوئی حیثیت ہی نہیں ہے ) ” اور آستانہ الوہیت پر گر کر انکسار اور عجز کے ساتھ خدا تعالیٰ کے فضل کو طلب کرے۔اور اس نور معرفت کو مانگے جو جذبات نفس کو جلا دیتا ہے اور اندر ایک روشنی اور نیکیوں کے لیے قوت اور حرارت پیدا کرتا ہے۔پھر اگر اس کے فضل سے اس کو حصہ مل جاوے اور کسی وقت کسی قسم کا بسط اور شرح صدر حاصل ہو جاوے“ ( دل کھل جائے۔دعاؤں کی قبولیت کا، اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے کھلنے کا شرح صد ر حاصل ہو جائے تو اس پر تکبر اور ناز نہ کرے بلکہ اس کی فروتنی اور انکسار میں اور بھی ترقی ہو“۔(جب اللہ تعالیٰ کے فضل کے دروازے کھلیں اور اس کو احساس ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل مجھ پر نازل ہو رہے ہیں تو مزید عاجزی پیدا ہو) کیونکہ جس قدر وہ اپنے آپ کو لاشئی سمجھے گا اسی قدر کیفیات اور انوار خدا تعالیٰ سے اتریں گے جو اس کو روشنی اور قوت پہنچائیں گے۔اگر انسان یہ عقیدہ رکھے گا تو امید ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس کی اخلاقی حالت عمدہ ہو جائے گی۔دنیا میں اپنے آپ کو کچھ سمجھنا بھی تکبر ہے اور یہی حالت بنادیتا ہے۔پھر انسان کی یہ حالت ہو جاتی ہے کہ دوسرے پر لعنت کرتا ہے اور اُسے حقیر سمجھتا ہے“۔(جب تکبر پیدا ہو جائے تو دوسرے کی کوئی حیثیت نہیں سمجھتا )۔( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 213 مطبوعہ ربوہ ) پس جیسا کہ میں نے کہا ہم میں سے ہر ایک کو اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے کہ کیا ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بتائے ہوئے اس عمدہ طریق پر چلنے کی کو شش کرتے ہیں۔پھر ایک جگہ آپ فرماتے ہیں: ”اے سعادتمند لو گو تم زور کے ساتھ اُس تعلیم میں داخل ہو جو تمہاری نجات کے لئے مجھے دی گئی ہے۔تم خدا کو واحد لا شریک سمجھو اور اُس کے ساتھ کسی چیز کو شریک مت کرو۔نہ آسمان میں سے ، نہ زمین میں سے۔خدا اسباب کے استعمال سے تمہیں منع نہیں کرتا لیکن جو شخص خدا کو چھوڑ کر اسباب پر ہی بھروسہ کرتا ہے وہ مشرک ہے۔قدیم سے خدا کہتا چلا آیا ہے کہ پاک دل بننے کے سوا نجات نہیں۔سو تم پاک دل بن جاؤ اور نفسانی کینوں اور عقوں سے الگ ہو جاؤ“ ( یہ کینے اور غصے بھی انسان کو کھا جاتے ہیں۔اُس کے اخلاق تباہ و برباد کر دیتے ہیں ) فرمایا: کینوں اور عصوں سے الگ ہو جاؤ۔انسان کے نفس امارہ میں کئی قسم کی پلید یاں ہوتی ہیں مگر سب سے زیادہ تکبر کی پلیدی ہے“۔( تکبر سب سے بڑا گند اور گناہ ہے۔"اگر تکبر نہ ہوتا تو کوئی شخص کافر نہ رہتا۔سو تم دل کے مسکین بن جاؤ۔عام طور پر بنی نوع کی ہمدردی کرو۔جبکہ تم انہیں بہشت دلانے کے لئے وعظ کرتے ہو“۔( اب ہمارے علماء