خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 497 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 497

خطبات مسرور جلد نهم 497 حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں:۔خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30 ستمبر 2011ء جس قدر تم آپس میں محبت کرو گے اُسی قدر اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا۔“ ( ملفوظات جلد دوم صفحہ 537-538 مطبوعہ ربوہ) اللہ کرے کہ ہم آپس کی محبت میں بڑھتے چلے جانے والے ہوں، کیونکہ جب تک آپس کی محبت میں اعلیٰ معیار حاصل نہیں کریں گے تو غیروں کو بھی محبت کی صحیح تعلیم نہیں پہنچاسکتے۔اللہ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔اس کے بعد ایک افسوسناک اطلاع بھی ہے ، میں ابھی جمعہ کی نماز کے بعد یا نمازوں کے بعد ایک جنازہ غائب پڑھوں گا جو مکرم سفیر احمد بٹ صاحب ابن مکرم حمید احمد بٹ صاحب کراچی کا ہے۔یہ سندھ کے رہنے والے تھے ، 1972ء میں وہاں پید اہوئے۔وہیں ایف۔اے تک تعلیم حاصل کی۔ان کے دادا حافظ عبد الواحد صاحب سید نا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کے محافظ تھے ، جو کہ واقف زندگی تھے۔سفیر بٹ صاحب حافظ عبد الواحد صاحب کے پوتے تھے۔ان کے والد حمید احمد بٹ صاحب، تعلیم الاسلام پرائمری سکول بشیر آباد کے ٹیچر تھے۔25 ستمبر کو نامعلوم افراد نے مکرم سفیر احمد بٹ صاحب پر فائرنگ کر دی جس سے وہ وفات پاگئے ،إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّ الَيْهِ رَاجِعُوْنَ یہ پولیس میں۔اے ایس آئی تھے ، اچھے بہادر اور جرات مند پولیس والوں میں شمار ہوتے تھے۔کسی کی فون کال آئی جس پر یہ موٹر سائیکل لے کر چل پڑے اور جہاں جانا تھا جاتے ہوئے راستے میں ان پر فائرنگ ہوئی۔ایک عرصے سے ان کو پولیس میں سپیشل ڈیوٹی پر دہشت گردوں اور جو نشہ آور چیزیں بیچتے ہیں، ان کے خلاف مہم میں استعمال کیا جارہا تھا، انہوں نے کافی کامیابیاں حاصل کی تھیں بظاہر وجہ یہی لگتی ہے کہ اس وجہ سے ان کو شہید کیا گیا۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔احمدی ایک تو احمدیت کی وجہ سے بھی، مذہب کی وجہ سے بھی پاکستان میں شہید ہوتے ہیں، اور وہاں جو عمومی لاقانونیت ہے اُس کی وجہ سے بھی احمدیوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں اور پھر احمدی جو حکومتی محکموں میں فرائض ادا کر رہے ہیں، ملک کی بہتری کے لئے کو شش کر رہے ہیں، وہ ملک کی خاطر بھی قربان ہو رہے ہیں، اس کے باوجود یہ شکوہ ہے کہ احمدی ملک کے وفادار نہیں ہیں۔جہاں کہیں کسی خاص جگہ پر کسی بہادر ہمت والے اور انصاف پسند کی ضرورت پڑے تو وہاں احمدی ہی کی تعیناتی کی جاتی ہے۔یہ موصی بھی تھے، ربوہ میں ان کی تدفین ہوئی گو پولیس نے آکے بڑا آئر دیا اور اپنی روایات کے مطابق ان کا جنازوہ وغیرہ پڑھا لیکن جب یہ قربانیاں ہو جائیں تو پھر بھی علماء اور نام نہاد ملاں یہی الزام دیتے ہیں کہ احمدی ملک کے وفادار نہیں، جبکہ آج حقیقی وفاداری کا نمونہ دکھانے والے صرف احمدی ہیں۔بہر حال جو ہمارا کام ہے ہم نے کئے جانا ہے، اللہ ان لوگوں کو بھی عقل اور سمجھ دے۔اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند کرے، انکے بچے ہیں اللہ تعالیٰ اُن کے بیوی بچوں کو بھی صبر اور حوصلہ دے۔الفضل انٹر نیشنل مورخہ 21 اکتوبر تا 27 اکتوبر 2011 ء جلد 18 شماره 42 صفحہ 5 تا8)