خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 498
خطبات مسرور جلد نهم 498 40 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 07 اکتوبر 2011ء خطبہ جمعہ فرمودہ 107اکتوبر 2011ء بمطابق 07اخاء1390 ہجری شمسی بمقام ہیمبرگ (Hamburg)۔جرمنی تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: جماعت احمدیہ کی مخالفت اور احمدیوں کو تکلیفیں پہنچانا کوئی آج کا یا جماعت احمدیہ کی تاریخ میں ماضی قریب کا قصہ نہیں ہے بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دعوی کے ساتھ ہی اس مخالفت کی بنیاد پڑ گئی تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعض قریبی جو دوستی کا دم بھرتے تھے جن کے نزدیک آپ سے زیادہ اسلام کی خدمت کرنے والا اُس زمانے میں اور کوئی پیدا نہیں ہوا تھا ، لیکن جب دعویٰ سنا، جب آپ کا یہ اعلان سنا کہ اللہ تعالیٰ نے بار بار مجھے کہا ہے کہ جو مسیح و مہدی آنے والا تھا وہ تم ہی ہو، اس زمانے میں بندے کو خدا سے ملانے والے اور خدا کے اس زمانے میں محبوب تم اس لئے ہو کہ آج تم سے بڑھ کر حبیب خدا سے محبت کرنے والا اور کوئی نہیں ہے ، تم ہی ہو جو وَ اخَرِينَ مِنْهُمُ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمُ (الجمعة: 4) کے مصداق ہو ، تو ان سب لوگوں نے جو آپ کو اسلام کا پکا اور سچا مجاہد سمجھتے تھے کہ اس وقت زمانے میں آپ جیسی کوئی مثال نہیں ہے تو انہوں نے نہ صرف یہ کہ آپ سے آنکھیں پھیر لیں بلکہ آپ کو تکالیف پہنچانے اور آپ کی ایذارسانی کے لئے غیر مسلموں کے ساتھ مل کر ، ان لوگوں کے ساتھ مل کر جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین میں پیش پیش تھے آپ کے خلاف قتل تک کے ناجائز مقدمات کروائے اور اُن میں بڑھ بڑھ کر اپنی گواہیاں اور شہادتیں پیش کیں۔پس یہ مخالفت جس کا آج تک ہم سامنا کر رہے ہیں یہ کوئی جماعت احمد یہ میں نئی چیز نہیں ہے۔آپ کو بذاتِ خود جب آپ کے ساتھ چند لوگ تھے، جیسا کہ میں نے کہا، اس ظالمانہ مخالفت سے گزرنا پڑا۔مقدمے بھی قائم ہوئے۔پھر آپ کی زندگی میں ہی آپ کے ماننے والوں کو دنیاوی مال و اسباب سے محروم ہونے کی سزا سے گزرنا پڑا۔بیوی بچوں کی علیحدگی کی سزا سے گزرنا پڑا، یہاں تک کہ اپنے مریدوں میں سے دو وفا شعاروں کی زمین کابل میں شہادت کی تکلیف دہ اور بے چین کرنے والی خبر بھی آپ کو سننا پڑی۔اُن میں سے ایک شہید وہ تھے جو رئیس اعظم خوست تھے ، جن کے اپنے مرید ہزاروں میں تھے ، جو بادشاہ کے دربار میں بڑی عزت کا مقام رکھتے تھے۔پس آپ کو ایسے وفا شعار فرشتہ صفت بزرگ سیرت مرید کی شہادت کی خبر کا صدمہ سہنا پڑا۔آپ نے اس شہید کی شہادت پر