خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 496
496 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 30 ستمبر 2011ء خطبات مسرور جلد نهم قریباً آٹھ سو سے ہزار نمازی نماز ادا کر سکتے ہیں۔مسجد کے مینار کی اونچائی اکیس میٹر ہے، گنبد کی اونچائی پانچ میٹر ہے۔ایک لائبریری بھی ہے ذیلی تنظیموں کے بھی اور مرکزی جماعتی دفاتر بھی ہیں، اسی طرح مسجد کالجنہ کا جو حصہ ہے۔اس کی اپنی ایک الگ لائبریری ہے اور نیچے اس کے ساتھ اُن کا دفتر بھی ہے۔ایک بڑا اور کافی وسیع کچن بھی ہے ماشاء اللہ اسی طرح کو نسل سے ایک مسئلہ چل رہا تھا اور لمبے عرصہ سے جو مسجد کی اجازت نہیں مل رہی تھی تو اس کی وجہ وہ اُس میں سڑک بنانے کا معاملہ تھا جو مسجد کے ایک سائیڈ پر ہے تو جماعت نے لوگوں کی سہولت کے لئے، بہتری کے لئے ، رفائے عامہ کے لئے وہ سڑک بھی بنا کے دی ہے ، فٹ پاتھ بھی بنا کے دیا ہے۔بہر حال جیسا کہ میں نے کہا کل ایک سو چار ملین کا اس میں خرچ ہوا۔ہماری مسجد مین سڑک کے اوپر ہے جو اوسلو ائیر پورٹ جانے والی سڑک ہے۔اور شہر میں آتے جاتے یہ نظر آتی ہے اس کا بڑا خوبصورت نظارہ ہے۔یہ ای سکس (6-E) موٹروے پر واقع ہے۔روزانہ اسی ہزار گاڑیاں اس سڑک سے گزرتی ہیں۔یہاں انڈر گراؤنڈ سروس اور بس سروس بھی مہیا ہے۔گویا ایک مرکزی جگہ ہے۔جو اللہ تعالیٰ نے جماعت کو عطا فرمائی ہے۔خدا کرے کہ اس کی آبادی بھی اسی جذبے سے ہو جو عموماً یہاں کے احمدیوں نے اس کی تعمیر میں دکھایا ہے۔اللہ کرے کہ یہ مسجد اس علاقے کے لوگوں کے دل کھولنے کا ذریعہ بنے۔مقامی لوگ تو عموماً خوش ہیں لیکن اس علاقے میں جو مسلمان آباد ہیں جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا وہ ملاؤں کے غلط اور ظالمانہ الزامات کی وجہ سے مخالفت میں بڑھے ہوئے ہیں۔اس لئے جیسا کہ میں نے کہا کہ مسجد کی تعمیر کے دوران یہاں توڑ پھوڑ کی کوششیں ہوتی رہیں لیکن ہم تو صبر اور دعا سے کام لینے والے ہیں اور لیتے رہیں گے انشاء اللہ تعالی۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہونے والوں کے لئے یہ دعا کرتے رہیں گے کہ خدا تعالیٰ اُن کو صراطِ مستقیم کی طرف لے کر آئے، اُن کی رہنمائی فرمائے۔جہاں تک غیر مسلموں کا تعلق ہے گو وہ خوش تو ہیں لیکن ہماری خوشی تب ہو گی جب ان کے دل اسلام کی خوبصورت تعلیم کے قبول کرنے کے لئے کھلیں گے لیکن اس کے لئے ہمیں، اس پیغام کے پھیلانے کے لئے بھر پور کوشش کرنی ہو گی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ جہاں مسلمانوں کو کوئی نہ جانتا ہو وہاں مسجد بنادو تو تمہارا تعارف خود بخود ہو جائے گا (ماخوذ از ملفوظات جلد 4 صفحہ 93 مطبوعہ ربوہ) اور اللہ کے فضل سے یہ مسجد کی تعمیر ثابت کر رہی ہے کہ اس علاقے میں اس ملک میں جماعت کا تعارف ہو رہا ہے۔ہمیں ان لوگوں کو یہ بتاتا ہو گا کہ مساجد وہ جگہیں ہیں جہاں خدائے واحد کی عبادت کی جاتی ہے اور خدا کے حقیقی عبادت گزار کبھی اس کی مخلوق کا بُرا نہیں چاہ سکتے۔پس ہماری مسجدیں اور یہ مسجد بھی ہر جگہ ہمیشہ امن اور محبت اور پیار کا نعرہ بلند کرے گی۔خدا کرے کہ ہم مسجد کی تعمیر کے مقصد کو پورا کرتے ہوئے اپنے تقویٰ میں، اپنی روحانیت میں بھی ترقی کرنے والے ہوں، اپنے دلوں میں خدا تعالیٰ کی محبت پیدا کر کے سکونِ قلب کے سامان پیدا کرنے والے ہوں اور ہم میں سے ہر ایک محبت، پیار اور بھائی چارے کا ایک نمونہ بننے والا ہو۔