خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 238 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 238

خطبات مسرور جلد نهم 238 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 13 مئی 2011ء کے ایمان میں زیادہ ترقی ہونی چاہئے۔اس میں ان باتوں پر عمل کرنے کی کوشش اُن سے بڑھ کر ہونی چاہئے جو نئے آنے والے ہیں۔استغفار کیا ہے ؟ اپنے اگلے پچھلے گناہوں سے بخشش طلب کرنا۔اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آنا تا کہ گناہوں سے بچتا بھی رہے۔تو بہ یہ ہے کہ جن غلط کاموں میں پڑا ہوا ہے اُن سے کراہت کرتے ہوئے اُن سے بچے رہنے کا پکا اور پختہ اور مصمم ارادہ کرنا۔اور پھر اُس ارادے پر اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتے ہوئے کار بند رہنا، اُس پر عمل کرنا کہ کوئی بھی چیز اُس کو اُس سے ہلا نہ سکے۔پھر دینی علوم کی واقفیت ہے۔اس میں سب سے پہلے قرآنِ کریم ہے۔پھر قرآن اور صحیح احادیث کی روشنی میں اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا کلام ہے۔آپ کی کتب ہیں۔آپ کی مختلف تحریرات وارشادات ہیں جو اسلام کی حقیقی تعلیم کی برتری دنیا پر دلائل و براہین سے ثابت کرتے ہیں ، جس کے مقابل پر کوئی اور دین کھڑا نہیں رہ سکتا کیونکہ اسلام ہی آخری کامل اور مکمل دین ہے۔پھر خدا تعالیٰ کی عظمت ہے۔اگر خدا تعالیٰ کی عظمت مد نظر رہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ یقین اور ایمان ہو کہ اللہ تعالیٰ ہی وہ ذات ہے جو ہر چیز کو پیدا کرنے والی ہے اور تمام ضروریات کو پورا کرنے والی ہے اور زمین و آسمان میں جو کچھ ہے اللہ تعالیٰ کے کامل علم نے اُس کا احاطہ کیا ہوا ہے۔وہ ہمارا رب ہے۔زندگی اور موت بھی اُس کے ہاتھ میں ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔وہ ہر جگہ موجود ہے اور ہر آن ہمیں دیکھ رہا ہے۔تو پھر ایک انسان کبھی کوئی ایسا کام نہیں کر سکتا جو اللہ تعالیٰ کی مرضی اور منشاء کے خلاف ہو۔اور جب اللہ تعالیٰ کی یہ عظمت دلوں میں قائم ہو جائے گی تو پھر پانچ وقت نمازوں کی طرف بھی خود بخود توجہ پیدا ہوتی چلی جائے گی۔دعاؤں کی طرف بھی توجہ پیدا ہوتی چلی جائے گی۔خدا تعالیٰ کے ساتھ اس بڑھتے ہوئے تعلق کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے وعدوں کے پورا ہونے پر یقین پیدا ہو تا چلا جائے گا بلکہ اس میں مضبوطی پیدا ہوتی چلی جائے گی۔اور نماز کے بارہ میں یہ فرمایا کہ یہ تمام دعاؤں کی کنجی ہے۔نماز ہی وہ اصل دعا ہے جو خدا تعالیٰ کے قریب کرتی ہے۔اور بندے کا خدا تعالیٰ سے زندہ تعلق جوڑتی ہے۔پس نمازوں کو سنوار کر اور وقت پر پڑھنے کی قرآنی تعلیم بھی ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنی امت کو خاص طور پر اس طرف متوجہ فرمایا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی اس پر بہت زور دیا ہے۔پس جب انسان ان باتوں پر عمل کرے گا تو حقوق اللہ ادا کرنے کی طرف بھی توجہ رہے گی اور حقوق العباد ادا کرنے کی طرف بھی توجہ رہے گی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ اگر یہ انقلاب تم اپنے اندر پیدا کر لو تو پھر اُس غلبے میں تم بھی حصہ دار بن جاؤ گے جو مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت سے مقدر ہے، جس کا مقدر اس سے جڑا ہوا ہے۔اس بات میں تو کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے وعدوں کے مطابق مسیح موعود کو اللہ تعالیٰ نے غلبہ عطا فرمانا ہے لیکن ہمیں نصیحت فرماتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ ہمارے غالب آنے کے ہتھیار تو یہ باتیں ہیں۔اگر تم ان باتوں کو اختیار کر لو تو غلبے میں تم بھی حصہ دار بن جاؤ گے۔ورنہ نام کے احمدی تو ہو لیکن عملی احمدی نہیں۔پس ہم میں سے ہر ایک کو وہ عملی احمدی بننے کی کوشش کرنی چاہئے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے غلبے کی مہم کا حصہ بنے۔