خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 237 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 237

خطبات مسرور جلد نهم 237 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 13 مئی 2011ء پس احمدی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر اس لئے ایمان لائے کہ آپ کے ساتھ جڑ کر ہم اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان میں بھی مزید پختہ ہوں اور اسلام کے غلبہ کے نظارے بھی دیکھیں۔پھر یہ بھی یاد رہے کہ اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نبی نہیں تو پھر خلافت بھی نہیں۔کیونکہ خلافت کا اس لئے نبوت کے ساتھ تعلق ہے کہ خلافت نے منھاج نبوت پر چلنا ہے۔آپ علیہ السلام خاتم الخلفاء تھے اور اس خاتم الخلفاء ہونے کی وجہ سے آپ کو نبی کا درجہ ملا اور اس کے بعد پھر آپ کے ذریعہ سے سلسلہ خلافت شروع ہوا۔پس جماعت احمدیہ کے نظام خلافت کا جو ہر ایک تسلسل ہے اس کا تعلق اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو نبی تسلیم کریں، مانیں اور یقین رکھیں۔ایک مرتبہ کچھ لوگ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت کے لئے حاضر ہوئے تو آپ نے ان کے ایمان کی مضبوطی کے لئے مختلف تفصیلی نصائح فرمائیں جن کا خلاصہ یہ ہے۔فرمایا کہ: صرف زبان سے بیعت تو بہ نہ ہو، بلکہ دل سے اقرار ہو ، اور جب یہ ہو گا تو پھر خدا تعالیٰ کے وعدوں کے پورا ہونے کے نظارے بھی دیکھو گے۔بیعت کرنے والا چاہتا ہے ( اور حقیقت میں اُس کی یہ خواہش ہوتی ہے) کہ وہ بیعت کر کے اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرے۔اور یہ نظارے آجکل بھی بیعت کرنے والے دیکھتے ہیں۔روحانیت میں بڑھتے جاتے ہیں۔کئی بیعت کرنے والے جو ہیں وہ اپنے خطوط میں یہ ذکر کرتے ہیں بلکہ ایک پاک تبدیلی جو ان میں پیدا ہوتی ہے، اسے دوسرے بھی دیکھ کر محسوس کر رہے ہوتے ہیں۔بیوی بچے حیران ہوتے ہیں کہ یہ کیا تھا اور ابھی کیا ہو گیا ہے ؟۔یہ کیا انقلاب ہے جو اس میں پیدا ہوا ہے۔تو یہ سچی بیعت ہے جو اس قسم کی پاک تبدیلیاں پیدا کرے۔پھر ان بیعت کرنے والوں کو آپ نے یہ نصیحت بھی فرمائی کہ کبھی اپنی بیعت کو کسی دنیاوی مقصد سے مشروط نہ کر نابلکہ اپنے اعمال میں بہتری پیدا کرو اور پھر دیکھو اللہ تعالیٰ بغیر انعام اور اجر کے نہیں چھوڑتا۔پھر فرمایا کہ بیعت کر کے پریشان نہیں ہونا چاہئے۔تکالیف آتی ہیں مگر آہستہ آہستہ حقیقی مومن دشمنوں پر غالب آتے جاتے ہیں کیونکہ اُس کا وعدہ ہے کہ میں اور میرے رسول غالب آئیں گے۔(ماخوذ از ملفوظات جلد نمبر 3 صفحہ 219 ت221) پھر آپ نے یہ بھی فرمایا کہ ”ہمارے غالب آنے کے ہتھیار، استغفار، توبہ ، دینی علوم کی واقفیت، خدا تعالٰی کی عظمت کو مد نظر رکھنا اور پانچوں وقت کی نمازوں کو ادا کرنا ہیں“۔فرمایا کہ ”نماز دعا کی قبولیت کی کنجی ہے۔جب نماز پڑھو تو اُس میں دعا کرو اور غفلت نہ کرو اور ہر ایک بدی سے خواہ وہ حقوقِ الہی کے متعلق ہو ، خواہ حقوق ( ملفوظات جلد نمبر 3 صفحہ 222،221) العباد کے متعلق ہو ، بچو“۔پس ہمیں ہمیشہ ان اہم باتوں کو پیش نظر رکھنا چاہئے۔یہ نصائح صرف نئے احمدیوں کے لئے نہیں تھیں جو آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے یا جو آج نئی بیعتیں کرتے ہیں بلکہ ہر احمدی کے لئے ہیں اور جتنا پرانا احمد کی ہو اُس