خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 528 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 528

528 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 21اکتوبر 2011ء خطبات مسرور جلد نهم گے۔خاص طور پر واقفین نو اور واقفات نو نے اس بات کا اظہار کیا۔جب میں نے انہیں اُن کی کلاس کے دوران سمجھایا کہ اُن کی کیا ذمہ داریاں ہیں۔واقفات نو نے تو بہت زیادہ عزم کا اظہار کیا ہے اور وعدہ کیا ہے کہ اپنی حالتوں کو بدلیں گی بلکہ اپنے ماحول کی حالتوں کو بدلیں گی اور اس بات پر شرمندگی کا اظہار کیا کہ اُن سے پر دے اور لباس اور احمدی لڑکی کے وقار کے اظہار میں جو کمیاں اور کو تاہیاں ہوتی رہی ہیں وہ نہ صرف اُن کو دور کریں گی بلکہ اپنے ماحول میں ، جماعتی ماحول میں بھی اور باہر کے ماحول میں بھی ایک نمونہ بن کے دکھائیں گی۔اللہ تعالیٰ اُن کو بھی توفیق عطا فرمائے اور دنیا کے ہر احمدی بچے کو اور بچی کو یہ توفیق عطا فرمائے کہ وہ احمدیت کا صحیح نمونہ ہو۔کیونکہ اگر ہماری لڑکیوں اور عورتوں کی اصلاح ہو جائے تو آئندہ نسلوں کی اصلاح کی بھی ضمانت مل جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ بھی برکت ڈالتا ہے۔بہر حال ناروے کی جماعت میں مجھے پانچ سال میں بعض لحاظ سے بہت زیادہ بہتری نظر آئی ہے۔ناروے میں غیروں کے ساتھ جو پروگرام ہوتے رہے اُن کا بھی کچھ ذکر کر دیتا ہوں اور اس سے پہلے ناروے کی حکومت کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے وہاں اپنے حالات کی وجہ سے سکیورٹی کا بڑا انتظام رکھا، کیونکہ جولائی میں وہاں ایک واقعہ ہو گیا تھا اور کچھ ویسے بھی اُن کو شاید کوئی اطلاعیں تھیں، تو انہوں نے مسجد میں مستقل سیکیورٹی رکھی۔میرے قیام کے دوران میرے ساتھ بھی رہے۔اللہ تعالیٰ اُن کو اس کی جزا دے۔وہاں ایک ممبر پارلیمنٹ نے پارلیمنٹ ہاؤس میں وزٹ کا ایک پروگرام رکھا ہوا تھا جس میں چار پانچ پارلیمنٹ کے ممبر بھی موجود تھے۔یہاں چھوٹی سی ریسپشن بھی تھی۔وہاں بھی اچھا پر وگرام رہا۔وہاں کے پارلیمنٹ کے پریذیڈنٹ اینڈرسن (Anderson) جو ہمارے ہاں سپیکر کہلاتے ہیں، اُن سے بھی ملاقات ہوئی۔اُن کو بھی جماعت کے تعارف کا تفصیل سے موقع ملا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کا مقصد ، آپ کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی، اس طرح تفصیل سے ساری باتیں ہوئیں۔خود ہی مجھے پوچھنے لگے کہ شیعہ سنی اور تم لوگوں میں کیا فرق ہے؟ اس سے پھر آئندہ آگے مزید باتیں کھلتی ہیں تو بہر حال باتیں چلتی رہیں۔اسی طرح مختلف اخبارات اور ریڈیو اور ٹی وی چینل کے نمائندوں نے بھی انٹر ویولئے۔ناروے ایک چھوٹا سا ملک ہے۔کل آبادی تو پانچ ملین ہے۔جس اخبار نے انٹرویو لیا اُس کی سر کو لیشن تین لاکھ پچاس ہزار ہے اور اچھے ماحول میں اُس نے انٹر ویو لیا۔مسجد کا مقصد، اسلام کی تعلیم ، جماعت احمدیہ کا کیا مقصد ہے ، یہ ساری باتیں ان لوگوں نے اپنے انٹرویو میں یا اخباروں میں شائع کیں، یاریڈیو میں بیان کیں یا ٹیلی ویژن کے پروگراموں میں بیان کیں اور اچھے وقت لئے بیان کرتے رہے۔پھر جماعت کا اور خلیفہ وقت کا کیا تعلق ہے ؟ کیا کرنے آئے ہیں؟ اس قسم کے سوالات تھے۔ان کے بڑے تفصیلی جواب اُنہیں دیئے اور اس کا پھر خود بھی انہوں نے مشاہدہ کیا۔جب وہ باہر نکلتے تھے تو جماعت کے افراد سے بھی پوچھ لیتے تھے اور پھر افراد جماعت کا جو اپنا ایک جذباتی تعلق ہوتا ہے جب وہ بیان کرتے تھے تو اس سے وہ اور متاثر ہوتے تھے کہ کس طرح ایک جماعت ہے جس میں خلافت اور جماعت کا وجود ایک بنے ہوئے ہیں۔بہر حال باقی تو مسلمانوں کے حوالے سے باتیں ہوتی رہیں کہ مسلمان کیا کہتے ہیں اور آپ کیا کہتے ہیں اور آپ