خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 529
529 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21اکتوبر 2011ء خطبات مسرور جلد نهم کو مسجد کیوں نہیں کہتے دیتے اور آپ کو مسلمان کیوں نہیں سمجھتے؟ یہ تو تفصیلی باتیں ہیں جور پورٹس میں آجائیں گی۔ناروے میں جب ہماری مسجد کی reception ہوئی ہے تو اس میں 120 کے قریب لوکل نارویجین افراد تھے جن میں سے گیارہ پارلیمنٹیرین تھے۔وہاں کی وزیر دفاع خاتون ہیں جو وزیر اعظم کی نمائندگی میں وہاں آئی تھیں۔وزیر اعظم کا پیغام بھی انہوں نے پڑھا اور اس سے پہلے اُن سے بھی کچھ تفصیلی باتیں ہوتی رہیں۔میں نے کہا کہ میں نے آپ کو پیغام بھی بھیجا تھا اور آپ کے درد کو ہم محسوس کرتے ہیں کیونکہ ہمارے احمدی بھی اسی طرح شہید کئے جاتے ہیں۔پھر اسی طرح اُن کو جو جماعتی خدمات ہیں، انسانی ہمدردی کی خدمات، تعلیمی خدمات، طبی خدمات اُن کے بارے میں تفصیل سے تعارف کروایا تو بڑی حیران تھیں کہ کوئی مسلمان تنظیم ایسی بھی ہے جو اس طرح کام کر سکتی ہے۔انہوں نے کہا تھا کہ میں تھوڑے وقت کے لئے آئی ہوں۔تقریباً رات پونے آٹھ بجے انہوں نے واپس جانا تھا لیکن اتفاق ایسا ہوا کہ جو میرے سے پہلے بولنے والے مقررین تھے اُن کی باتیں کچھ لمبی ہو گئیں تو پونے آٹھ بجے میری تقریر شروع ہوئی اور تقریر بھی کافی لمبی تھی تو وہ آرام سے بیٹھی رہیں۔عموماً سکینڈے نیوین ملکوں میں میں نے دیکھا ہے کہ یہ لوگ تیس پینتیس منٹس (Minutes) سے زیادہ سننے کے عادی نہیں۔لیکن میری باتیں تقریباً وہ پچاس منٹ تک خاموشی سے سنتی رہیں۔میں نے بعد میں معذرت کی۔کہنے لگیں کہ نہیں مجھے لگا کہ آج میں نے اپنے وقت کا صحیح استعمال کیا ہے اور پھر اُس کے بعد بھی وہ بیٹھیں ، کھانا کھایا اور جہاں پونے آٹھ بجے جانا تھا وہاں ساڑھے نو تک بھی اُن کا اُٹھنے کو دل نہیں چاہ رہا تھا۔بہر حال وہاں کافی باتیں ہوتی رہیں۔کیونکہ reception میں مسجد کے حوالے سے میں نے بتایا کہ ہماری مسجد تو اس لئے ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کی جائے، ایک خدا کی عبادت کی جائے۔اور یہاں جب ایک خدا کی عبادت کے لئے انسان آتا ہے تو سوال ہی پیدا نہیں ہو تا کہ کسی دہشت گردی، کسی قسم کی بدامنی کا خیال بھی پیدا ہو۔سکینڈے نیوین ممالک میں بھی بعض ایسے طبقے ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآنی تعلیم پر بہت زیادہ اعتراضات کرتے ہیں اس لئے اُن کو قرآن اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کافی وضاحت سے میں بتانا چاہتا تھا جو میں نے بتایا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بتایا کہ آپ کی تڑپ تو یہ تھی اور آپ کی حالت یہ تھی کہ آپ کی راتیں بے چین ہوتی تھیں اور تڑپ کے دعا کیا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو سیدھے راستے پر چلائے اور یہ خدا کو پہچان لیں۔میں نے ان کو بتایا کہ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں کسی بھی قسم کا ایسا خیال ہو تا کہ دنیا پر قبضہ کرنا ہے تو یہ راتوں کی تڑپ نہ ہوتی۔راتوں کی یہ تڑپ صرف اس دنیا کے امن کے لئے نہیں تھی بلکہ لوگوں کو آئندہ زندگی میں بھی، جو مرنے کے بعد کی زندگی ہے، اُس کے امن کی ضمانت کے لئے بھی یہ تڑپ اور دعائیں تھیں۔تو بہر حال قرآنِ کریم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ کے حوالے سے ایک بڑا اچھا پروگرام رہا۔اُن سے کافی تفصیلی باتیں ہوئیں۔باتیں کیا ہوئیں اُس تقریر میں ، اس reception میں یہ سب کچھ میں نے بیان کیا۔اسی طرح وہاں کالمار کی کاؤنٹی کے پریذیڈنٹ بھی آئے ہوئے تھے۔سکینڈے نیوین ملکوں میں جو پارٹیاں