خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 527 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 527

527 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 اکتوبر 2011ء خطبات مسرور جلد نهم خوبصورت نظارہ پیش کرتی ہے۔وہاں کے وزیر اعظم نے بھی یہ اعتراف کیا کہ یہ ایک خوبصورت اضافہ ہے جو اس سڑک پر ہوا ہے۔روزانہ تقریباً اسی نوے ہزار گاڑیاں، کاریں وغیرہ وہاں سے گزرتی ہیں جو اس مسجد کو دیکھتی ہیں۔کہتے ہیں کہ ایک دفعہ کسی چیز کی چاٹ لگ جائے تو پھر اس کے حصول کے لئے ہر کوشش ہوتی ہے۔ہماری ناروے کی جماعت میں بھی لگتا ہے کہ اکثر لوگوں میں یہ صورت پید اہو رہی ہے۔یا تو یہ حال تھا کہ دس سال تک مسجد بنانے کے بہانے تلاش کرتے رہے کہ بن سکتی ہے کہ نہیں بن سکتی؟ مشکلات کی ایک فہرست پیش کرتے رہے یا اب کہتے ہیں کہ وہاں ایک اور شہر ہے جس کا نام کرسچن سانڈ ہے ، وہاں چھوٹی سی جماعت ہے، کہ ہم نے وہاں بھی مسجد بنانی ہے اور اُس کے بھی جو اخراجات ہیں وہ کافی آ رہے ہیں کیونکہ ناروے میں مہنگائی بھی کافی ہے۔میں نے انہیں کہا ہے کہ یہ مسجد تو ابھی آپ نے مکمل کی ہے، فوری طور پر نئی مسجد کس طرح شروع کر دیں گے ؟ تو اب ماشاء اللہ اُن کی جرآت اتنی بڑھ گئی ہے کہ عاملہ نے بھی اور بعض لوگوں نے بھی مجھے ذاتی طور پر کہا کہ انشاء اللہ تعالیٰ ہم بنالیں گے، اللہ تعالیٰ فضل کرنے والا ہے۔پس یہ جوش و جذبہ ہے جو ایک احمدی میں ہے۔ایک مرتبہ ارادہ کر لیا تو پھر کوئی بند نہیں ہے۔اگر نیت نیک ہے تو سب بند ٹوٹ جاتے ہیں۔ہر روک جو ہے وہ ختم ہو جاتی ہے۔اور یہ سب چیز جو ہے یہ کسی فرد کا یا اُن چند افراد کا کمال نہیں ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ برکت ڈالتا ہے اور دلوں کو بدلتا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے وعدوں کے پورا ہونے کی یہ دلیل ہے۔اللہ تعالیٰ نے آپ سے یہ فرمایا تھا کہ يَنْصُرُكَ رِجَالٌ نُّوْحِيَ إِلَيْهِمْ مِّنَ السَّمَاءِ کہ وہ لوگ تیری مدد کریں گے جن کو ہم آسمان سے وحی کریں گے۔(تذکرۃ صفحہ 39 مطبوعہ ربوہ 2004) پس جب ارادے نیک ہوئے، نیتیں نیک ہوئیں، دعا کی طرف بھی اور اللہ تعالیٰ کی طرف بھی توجہ ہوئی تو پھر اللہ تعالیٰ نے بھی اُن کے دلوں کو ایسا کھولا کہ ہر وقت مدد کے لئے تیار ہوتے چلے جا رہے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مشن کو آگے بڑھانے کا کام، آپ کی اس خواہش کو پورا کرنے کا کام کہ اسلام کو متعارف کرانے کے لئے مسجدیں بنا دو۔یعنی وہ مسجدیں جن کے بنانے والے اور عبادت کرنے والے خدا اور رسول کے احکامات پر عمل کرنے والے ہوں تو پھر اسلام اس طرح خوبصورت رنگ میں متعارف ہوتا ہے کہ دنیا اس کی خوبصورتی دیکھ کر دنگ رہ جاتی ہے۔پس افرادِ جماعت نے نیک کام کے لئے اپنی حالتوں کو بدلنے کی کوشش کی تو اللہ تعالیٰ نے بھی غیر معمولی وسعت حوصلہ اور توفیق میں وسعت عطا فرما دی اور دنیا میں اور جگہوں پر بھی فرما رہا ہے۔اس مرتبہ تو دورے کے دوران یہ لوگ مجھے پہلے سے بہت بڑھ کر ایمان و اخلاص میں بڑھے ہوئے نظر آئے۔اللہ تعالیٰ ان کے ایمان و اخلاص کو ہمیشہ بڑھا تار ہے اور ہر احمدی کے ایمان و اخلاص کو بڑھاتا رہے۔ناروے بھی یورپ کے اُن ممالک میں سے ہے جہاں عموماً تربیت کی طرف بہت توجہ کی ضرورت پڑتی ہے۔دنیا داری کی طرف رجحان بھی ہے لیکن اس مرتبہ مجھے وہاں مردوں اور عورتوں کو، بچوں کو ، بچیوں کو سمجھانے پر اُن کی نظروں میں شرم و حیا اور افسوس بھی نظر آیا۔یہ عزم اور ارادہ نظر آیا کہ ہم اپنی کمزوریاں بھی دور کریں