خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 218 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 218

خطبات مسرور جلد نهم 218 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 اپریل 2011ء امیر صاحب انڈونیشیا لکھتے ہیں کہ عزیزہ اڈہ سکندیانہ (Ida Skandiana)جو جماعت احمدیہ پارونگ (Kimang Parnung) کی ممبر ہیں۔اگر چہ وہ نو عمر بچی تھی لیکن اس کے باوجود کئی خوابوں میں امام مہدی علیہ السلام سے ملاقات کر چکی تھی۔وہ جانتی نہ تھی کہ امام مہدی کون ہیں ؟ انہوں نے نقشبندی تحریک میں شمولیت اختیار کی لیکن وہ امام مہدی جو انہیں خواب میں دکھائے گئے تھے ان کی تلاش کرنے میں کامیاب نہ ہو سکیں۔مئی 2007ء میں ایک دن انہیں ان کے نئے ہمسائے نے دعوت پر بلایا۔یہ صاحب ہمارے مبلغ ظفر اللہ پونتو صاحب تھے۔جب اڈہ سکند یا نہ ان کے گھر داخل ہوئیں تو ان پر ایک لرزہ طاری تھا۔وہاں ایم۔ٹی۔اے لگا ہوا تھا اور اس پر حضرت خلیفۃ المسیح الرابع کا پروگرام آرہا تھا تو اڈہ قائل ہو گئی کہ یہ وہی شخص ہے جس کو میں دیکھا کرتی تھی۔چنانچہ 24 مئی 2007ء کو انہوں نے بیعت کر لی۔قرغزستان کے سلومت کشتو بوئیو (Salmat Kyshtobaev) صاحب نے چند سال پہلے لندن میں بیعت کی۔آج کل جماعت قرغزستان کے صدر ہیں۔کہتے ہیں بیعت سے پہلے میں اسلام سے متنفر ہو چکا تھا۔دین کے ساتھ کسی قسم کا کوئی لگاؤ نہیں تھا۔احمدی ہونے سے تقریباً دو سال قبل ایک خواب دیکھا جو میرے خیال میں اب مکمل ہوا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ ایک رات خواب آئی۔خواب دیکھتا ہوں کہ میر ابڑا بھائی نورلان (Nurlan) مجھے کہہ رہا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیغمبر بن کر آیا ہوں۔مجھ پر یقین کرو۔کہتے ہیں میں یقین کر لیتا ہوں۔پھر وہ کہتے ہیں کہ آپ سب لوگ بہشت میں جائیں گے لیکن بہشت میں جانے کے لئے اللہ کی راہ میں رقم دینی ضروری ہے۔ان کا خواب ختم ہو جاتا ہے۔پھر دو سال کے بعد یہ احمدیت قبول کرتے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتاب ”رسالہ الوصیت“ کا جب قرغیز میں ترجمہ ہو تو یہ پڑھ کر انہوں نے وصیت کی۔کہتے ہیں کہ میں نے دو سال پہلے جو خواب دیکھا تھا آج پورا ہو گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے احمدیت کی صداقت مجھے پہلے ہی بتادی تھی کہ وصیت ایک الہی نظام ہے۔اس میں شامل ہونا میرے لئے باعث برکت ہے۔عبد القادر حداد صاحب الجزائر کے ہیں، یہ کہتے ہیں 2004ء میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دو شخصیتوں میں دیکھا۔اک بڑھاپے کی عمر میں اور ایک پینتالیس سالہ انسان کی حالت میں ،۔جس میں لمبی داڑھی ہے اور اُن کے سر پر پگڑی ہے۔پھر مجھے 2006ء میں دوبارہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی، دو شخصیتوں کی صورت میں۔حضور کا چہرہ مبارک سفید اور نورانی تھا اور آپ نے فرمایا ”خوش ہو جاؤ یہ خدا کار سول ہے“۔اس کے دو ماہ بعد میں نے ایم۔ٹی۔اے پر حضرت امام مہدی علیہ السلام کی تصویر دیکھی جو وہی دوسری شخصیت کی تھی۔اس کے بعد میں نے پندرہ میں دن تک مسلسل گھر میں بیٹھ کر ایم۔ٹی۔اے کے پروگرام دیکھے اور بیعت کر لی۔امیر صاحب کا نگو کنشاسا لکھتے ہیں کہ ”دیدی کی گنگالہ (DIdI Kikangala)صاحب لوبو مباشی“ شہر میں وکیل ہیں۔مذہبا عیسائی تھے۔چند ماہ سے زیر تبلیغ تھے۔تاہم بیعت نہیں کرتے تھے۔ایک رات انہوں نے