خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 217 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 217

217 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 اپریل 2011ء خطبات مسرور جلد نهم قرغزستان سے ہمارے مبلغ لکھتے ہیں۔ایک نوجوان سیچ تک (Tinchtik) صاحب ہیں۔اپنا واقعہ وہ ینچ تک صاحب خود بیان کرتے ہیں۔کہتے ہیں کہ میں کچھ عرصے سے جماعت احمدیہ کے بارے میں معلومات حاصل کر رہا تھا لیکن تاحال بیعت کے لئے شرح صدر نہیں تھا۔انہی ایام میں ایک رات خاکسار نے خواب دیکھا کہ چھت پر ایک کالی شبیہ نظر آتی ہے۔اس وقت میں فوراً سورۃ فاتحہ اور لا الہ الا اللہ کا ورد کرتاہوں۔اُس کے بعد خواب میں مجھے ایک سفید صاف ورق دکھایا جاتا ہے جس کے اوپر عربی میں کچھ لائنیں لکھی ہوئی ہیں۔اُن کو پڑھنے کی کوشش کر رہا ہوں لیکن مجھے سمجھ نہیں آرہی۔اس کے فوراً بعد دیکھتا ہوں کہ بائیں طرف اوپر کونے میں رشین میں لکھا ہوا تھا ” اسلام حقیقی دین اور اونچی آواز آرہی تھی کہ احمدیت حقیقی اسلام“۔اس خواب کے بعد میر ادل مطمئن ہو گیا اور میں نے فوراً بیعت کر لی۔انڈونیشیا کے امیر صاحب لکھتے ہیں کہ مکرم رونی پسارونی (Roni Psaroni)جو کہ جماعت احمدیہ ویسٹ جکارتہ کے ممبر ہیں۔انہوں نے احمدیت قبول کرنے سے قبل خواب میں سفید کپڑوں میں ملبوس ایک نورانی وجود دیکھا جس نے سر پر پگڑی بھی پہنی ہوئی تھی۔اس خواب نے ان صاحب پر بڑا گہرا اثر چھوڑا۔چند دن بعد یہ صاحب ایک دوست کے گھر گئے اور تصویر میں وہی وجود دیکھا جو انہیں خواب میں دکھایا گیا تھا۔اس تصویر کے بارے میں پوچھا تو ان کے دوست نے بتایا کہ یہ تصویر امام مہدی بانی جماعت احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد علیہ السلام کی ہے۔اس کے بعد رونی صاحب نے جماعتی کتب کا مطالعہ شروع کیا اور ان کی اہلیہ کا بیان ہے کہ بعض اوقات وہ در جنوں جماعتی کتب، چھوٹی چھوٹی کتابیں صرف دو دن میں پڑھ لیتے تھے۔آخر 2008ء میں انہوں نے بیعت کی۔اور گزشتہ دنوں انڈونیشیا میں جو اکٹھی تین شہادتیں ہوئی ہیں ، اُن میں سے ایک یہ بھی تھے۔بین کے امیر صاحب لکھتے ہیں کہ باسلہ ریجن کے گاؤں ” کو کو (Ikoko)“ میں ہمارے لوکل مشنری حسینی علیو صاحب کئی بار تبلیغ کے لئے گئے۔وہاں کے امام مولوی عبد الصمد صاحب جماعت کے اشد مخالف تھے۔وہاں بیعتوں کے حصول میں رکاوٹ بنتے تھے۔اس امام سے بھی کئی بار بات چیت ہوئی لیکن وہ مخالفت پر قائم رہے۔معلم علیو صاحب بتاتے ہیں کہ پھر تقریباً آٹھ مہینے سے ان مولوی صاحب سے رابطہ منقطع تھا۔ایک دن صبح کے وقت مذکور مولوی صاحب نے فون کیا اور گاؤں آکر ملنے کے لئے کہا۔جب ان کے پاس گئے تو انہوں نے بتایا کہ رات خواب میں آپ کے امام خلیفۃ المسیح الخامس ( میر ابتایا کہ وہ) آئے ہیں۔اُن کو میں نے خواب میں دیکھا اور کہتے ہیں کہ کس چیز کا انتظار کر رہے ہو ؟ جماعت میں داخل ہو جاؤ۔یہ الفاظ کئی بار دہرائے۔تو کہتے ہیں میں رعب کی وجہ سے اُن کے سامنے کوئی جواب نہیں دے سکا۔اس میں مجھے سمجھایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ واضح نشان ہے کہ احمدیت سچی ہے، قبول کر لو۔اس کے بعد مولوی صاحب نے مخالفت چھوڑ دی اور اپنے دوسرے ساتھیوں کو بھی جماعت کی طرف مائل کر رہے ہیں۔اور کہتے ہیں کہ سب کو لے کر انشاء اللہ میں جماعت میں شامل ہوں گا۔بہر حال ان کی مخالفت چھوڑنے کی وجہ سے وہاں بیعتیں بھی ہوئی ہیں اور اکاون بیعتیں پھر مذکورہ امام کی وجہ سے حاصل ہوئیں۔