خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 219
219 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 29 اپریل 2011ء خطبات مسرور جلد نهم خواب دیکھا کہ بہت سے خطر ناک قسم کے جنگلی جانور اور درندے ان پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ان کو اور کچھ نہیں سوجھا لیکن وہ صرف اللہ کا لفظ کہہ کر ان پر پھونک مارتے ہیں۔اس پر وہ جانور گرتے جاتے ہیں۔یہ سلسلہ خواب بھی بہت دیر تک چلتا رہا۔صبح ہوتے ہی وہ مشن ہاؤس آئے۔بہت پر جوش تھے اور باقی افراد جو وہاں موجود تھے اُن کو بھی بڑے جوش سے خواب سنا رہے تھے اور گواہی دینے لگے کہ اسلام سچا مذ ہب ہے اور جماعت احمد یہ برحق ہے۔چنانچہ اسی روز بیعت کر کے جماعت میں داخل ہو گئے۔اور بڑے اخلاص و وفا سے یہ جماعت سے چھٹے ہوئے ہیں۔سامح محمد عراقی صاحب مصر کے ہیں۔تین سال سے زائد عرصہ قبل کی بات ہے۔کہتے ہیں کہ میں ایک معروف عیسائی پادری کے اسلام پر حملوں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی تفصیل سنتا اور دل ہی دل میں گڑھتا تھا کیونکہ میں خود کو اس کا جواب دینے سے عاجز پاتا تھا۔یہ احساس مجھے اندر ہی اندر مارے جا رہا تھا۔چونکہ میں مصر کی ایک مسجد میں خطیب تھا اس وجہ سے مجھے اسلامی علوم کا بہت حد تک ادراک تو تھا لیکن اس بات کی کچھ سمجھ نہ آرہی تھی کہ ایک مسلمان کیونکر ان افتراؤں کا جواب دینے سے بے بس اور عاجز ہے ؟ جب انٹر نیٹ پر اس بارہ میں کچھ ریسرچ کی تو اسی نتیجہ پر پہنچا کہ گزشتہ تفاسیر اور علماء کا طریق اس پادری کا جواب دینے سے قاصر ہیں۔بلکہ انہی کی وجہ سے تو پادری کو اعتراضات کرنے کی جرات ہوئی ہے۔پھر اچانک مجھے مصطفی ثابت صاحب کی کتاب ”اجوبه عن الایمان مل گئی۔آپ کے بارے میں مزید جاننے کی کوشش کی تو مجھے جماعت کی ویب سائٹ اور ایم۔ٹی۔اے سے تعارف ہو گیا۔چنانچہ جب میں نے مزید مطالعہ کیا اور ایم۔ٹی۔اے کے پروگرام دیکھے تو یقین ہو گیا کہ یہ علوم کسی انسان کی ذاتی کوشش کا نتیجہ نہیں ہو سکتے۔بہر حال میں نے دو سال تک کسب فیض کیا۔جس کا لب لباب یہ ہے کہ مجھے قرآنِ کریم مل گیا۔پھر میں نے خواب میں حضرت امام مہدی علیہ السلام کو دیکھا۔آپ نے میرا ہاتھ پکڑا اور ایک جگہ لے گئے جہاں برادران بانی طاہر صاحب، تمیم ابو دقہ ، طاہر ندیم صاحب ایک دستر خوان کے گرد بیٹھے تھے ، آپ نے مجھے بھی اُن کے ساتھ بٹھا دیا اور اس رؤیا کے بعد خدا تعالیٰ نے بیعت کے لئے میر اسینہ کھول دیا۔ایک رشین خاتون صفیہ اولگا صاحبہ نے 2009ء میں بیعت کی۔وہ اپنی خواب بیان کرتی ہیں کہ رمضان کے آخری عشرے میں انہیں خواب آئی کہ گویا اس کی زندگی شطر نج کی طرح دو حصوں میں تقسیم ہے گویا بہت مشکل ہے۔پھر اُسے کوئی کہتا ہے کہ درمیان میں پہنچنے تک سب بدل جائے گا۔پھر جیسے دوسرے حصے میں پہنچتے ہی ایک صاف سر سبز گھاس والالان نمودار ہوتا ہے جہاں روشن سورج چمکتا ہے ( اس لان کے اوپر ایک روشن سورج چمکتا ہے)۔مجھے کہا جاتا ہے کہ یہ بھارت ہے ، انڈیا ہے۔وہاں وہ تباہ شدہ قلعہ دیکھتی ہیں لیکن انہیں وہاں تک جانے نہیں دیا جاتا۔کہا جاتا ہے کہ وہاں جانے کے لئے کچھ کرنا ہو گا جس کے بعد اُسے وہاں جانے دیا جاتا ہے۔اس خواب کے تقریباً تین چار ہفتے بعد اسے ایک امام جو احمدی نہیں تھے لیکن جماعت احمدیہ کے مبلغ سے علم حاصل کرتے رہے ہیں وہ احمد یہ سنٹر میں ہمارے مبلغ طاہر حیات صاحب کے پاس لے کر آئے۔یہاں اس خاتون کو جماعت کا تعارف