خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 64 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 64

64 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 فروری 2011ء خطبات مسرور جلد نهم میں برابر کے حصہ دار ہیں۔انڈو نیشیا کی تعمیر میں برابر کے حصہ دار ہیں۔لکھتا ہے کہ یہ افسوس ناک واقعہ انڈو نیشیا کی تاریخ کا ہمیشہ کے لئے ایک انمٹ حصہ بن چکا ہے۔پھر لکھتا ہے کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ جماعت احمدیہ کی تعلیم غیر اسلامی ہے اس لئے ان کو جینے کا کوئی حق نہیں، یہ سب لوگ راہ سے بھٹکے ہوئے ہیں یا بھٹکا دیئے گئے ہیں۔پھر لکھتا ہے کہ بیسویں صدی کی نئی سوچ اور ترقی پسند سوچ احمدی سکالرز نے ہی انڈو نیشیا کو دی ہے۔کہتا ہے کہ ہمارے لیڈروں نے جن میں صدر سوئی کار نو بھی شامل ہیں، قرآنِ کریم کا ترجمہ جماعت احمدیہ کے سکالر کا ہی لکھا ہوا پڑھا ہے۔جس سے ان کو قرآنِ کریم کی سمجھ آئی، جس سے ان کے علم میں اضافہ ہوا۔پھر لکھتا ہے کہ ہم اس اقلیتی گروپ کے یقینا شکر گزار ہیں۔جماعت احمدیہ کی اس ملک کے لئے خدمات انمول ہیں۔یہ اس مضمون کا خلاصہ ہے جو میں نے بیان کیا ہے۔یہ لکھنے والے جوگ جا کر تا کی اسلامی یونیورسٹی کے ایک لیکچر رہیں۔بہر حال جکارتہ پوسٹ ، جکارتہ گلوب وغیرہ نے اس حوالے سے یہ خبریں شائع کی ہیں۔اور بڑی سختی سے اس عمل کو اور اس حرکت کو رڈ کیا ہے اور حکومت کو توجہ دلائی ہے۔کم از کم وہاں کے میڈیا اور پڑھے لکھے لوگوں میں یہ جرآت تو ہے کہ ظلم کے خلاف انہوں نے آواز اٹھائی ہے۔کچھ بولنے والے ہیں جس سے قوم کی بہتری کی کوئی امید کی جاسکتی ہے۔کاش کہ یہ جرات پاکستان کے پڑھے لکھے لوگوں میں بھی پیدا ہو جائے اور پر لیس میں بھی پیدا ہو جائے۔جماعت احمدیہ کی مخالفت انڈونیشیا میں کوئی نئی نہیں ہے۔جیسا کہ ہمیشہ سے الہی جماعتوں سے طاغوتی طاقتوں کا سلوک رہا ہے ، شیطان کا سلوک رہا ہے۔جماعت احمدیہ کی بھی کسی نہ کسی رنگ میں خاص طور پر اسلامی ممالک میں مخالفت ہوتی رہی ہے اور ہوتی رہتی ہے۔اور انڈونیشیا میں جماعت کے قیام سے ہی یہ مخالفت رہی ہے۔ہمیشہ فلاں راہِ راست سے ہٹا رہا ہے اور انڈونیشیا میں اُس نے جماعت کی ہمیشہ مخالفت کی ہے۔ملاں کا تو خیر طریقہ ہی یہی ہے۔وہ کسی بھی ملک کا ملاں ہو ، اُس نے حق کو نہیں مانا کیونکہ ان کے اپنے مفادات ہیں۔یہ سمجھتے ہیں کہ اگر وہ حق کو قبول کر لیں گے تو ان کی روزی بند ہو جائے گی، اُن کی اہمیت ختم ہو جائے گی۔ان کے علم کی اصلیت ظاہر ہو جائے گی۔بہر حال میں آج جماعت انڈو نیشیا کی ابتدائی مختصر تاریخ اور فلموں کا بھی ذکر کر دیتا ہوں۔پھر شہداء کا ذکر کروں گا۔انڈونیشیا میں اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا آغاز اور احمدیت کا نفوذ الہی تصرفات کے موجب عجیب رنگ میں ہوا ہے۔اس ملک کو یہ اعزاز اور فخر حاصل ہے کہ اس کے چار افراد کو جماعت احمدیہ کے مرکز قادیان میں جا کر خود احمدیت قبول کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔کوئی مبلغ انڈونیشیا نہیں گیا جس نے وہاں جماعت قائم کی بلکہ چار افراد خود قادیان آئے اور وہ اس مقصد کے لئے نہیں آئے تھے کہ احمدی ہوں گے بلکہ پھرتے پھراتے آئے۔اس کی تفصیل یوں ہے کہ 1923ء میں سماٹرا کے چار نوجوان محترم مولوی ابو بکر ایوب صاحب، مولوی احمد نورالدین